اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

جون ایلیا

اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

    اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں

    تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ

    آپ تو قتل عام کر رہے ہیں

    داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں

    ہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں

    ہم ہیں مصروف انتظام مگر

    جانے کیا انتظام کر رہے ہیں

    ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم

    ہر کسی کو سلام کر رہے ہیں

    ایک قتالہ چاہیے ہم کو

    ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں

    کیا بھلا ساغر سفال کہ ہم

    ناف پیالے کو جام کر رہے ہیں

    ہم تو آئے تھے عرض مطلب کو

    اور وہ احترام کر رہے ہیں

    نہ اٹھے آہ کا دھواں بھی کہ وہ

    کوئے دل میں خرام کر رہے ہیں

    اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے

    بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں

    ہم عجب ہیں کہ اس کے کوچے میں

    بے سبب دھوم دھام کر رہے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    مآخذ:

    • Book : yani (Pg. 121)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY