aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",QueH"
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
1929 - 2017
شاعر
ز خ ش
1894 - 1922
دتا ساغر
born.1953
فرانس گادلیب کوئن فراسو
شاہد نوخیز اعظمی
مصنف
سی ایچ آتما
1923 - 1975
فن کار
کوہ نور پریس، بیاول
ناشر
لالہ چیت رام
کے ایچ۔ اے۔ حئی
محکمہ السنہ اردو سیل
امین الدولہ ابوالفرج ابن القف المسیحی
کالی۔کے۔ مترا پرنٹر،انڈین پریس، الہ آباد،انڈیا
م۔ خ۔ شاذلی
سی۔ایچ۔ سدا نندم
شیریں زادہ خدوخیل
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیںڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
ہے وہی بد مستی ہر ذرہ كا خود عذر خواہجس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
دیوانے دیوانے ٹھہرے کھیل گئے انگاروں سےآبلہ پائی اب کوئی پوچھے ان ذہنی بیماروں سے
کہہ کے کچھ لالہ و گل رکھ لیا پردہ میں نےمجھ سے دیکھا نہ گیا حسن کا رسوا ہونا
آب حیات متعدد ناموں سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ آب بقا، آب حیواں، آب خضر، آب زندگانی، چشمۂ زندگی، چشمۂ حیواں، زلال خضر، زلال بقا، زلال زندگانی، چسمۂ ظلمات۔ یہ سارے مرکبات مذکورہ اساطیری واقعے کا تلمیحی اشارہ ہیں۔...
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
اختر الایمان کی ۱۰ بہترین نظمیں
के کے
اَسماء جمع سے پہلے بجائے کا ، کے استعمال ہوتا ہے
سنسکرت, عربی
कें-कें کیں کیں
کُتّے وغیرہ کی آواز، کتّے کے پلّے کے رونے کی آواز
क्यों के کِیُوں کے
رک : کیون٘کر .
नाई के نائی کے
نائی کی اولاد ، ملازم وغیرہ کو غصے میں بلانے کا ایک کلمہ ۔
امیر خسرو کا ہندوی کلام
امیر خسرو
شاعری تنقید
جدید پہیلیاں
راج کشور
کہہ مکرنی
رباعیات و ماہیئے اور ماہیئے کی ہیئت
کندن لال کندن
نذر خسرو
شان الحق حقی
سکھی ساجن
مناظر عاشق ہرگانوی
بوجھ سکھی ری بوجھ
فراغ روہوی
از حزب چہ میدانیم
آیۃ اللہ دکتر بھشتی
کتابچہ نمبر 1
سید محمد علی
چھ گنہگار عورتیں
عبدالرؤف سکھروی
اسلامیات
ایک کہانی چھ ادیبوں کے زبانی
صادق الخیری
افسانہ
پطرس کے مضامین
پطرس بخاری
مضامین
علامہ اقبال کے اشعار
علامہ اقبال
اشعار
اردو ادب کے ارتقا میں ادبی تحریکوں اور رجحانوں کا حصہ
منظر اعظمی
ادبی تحریکیں
ڈاکٹر علامہ اقبال کے شکوہ، جواب شکوہ کی نثری ترجمانی
کہہ دیتا ہوںایسا کچھ بھی اگر ہوا تو
اے کراچی ملک پاکستان کے شہر حسیںمرنے والوں کو جہاں ملتی نہیں دو گز زمیں
پھسڈی کہہ کے مجھ کو چھیڑنے والوہراؤ اب مجھے
نگاہ مست ان کی کہہ رہی ہےکہیں ہوتی رہی ساقی گری رات
رتبہ کچھ عاشقی میں نہ کم ہے فقیر کاہیں جس کے سب صنم وہ صنم ہے فقیر کا
کمبخت ہواؤں نے یہ کیا کہہ دیا ان سےکیوں ابر اڑے جاتے ہیں برسات کئے بن
تجھ خوبرو پہ مرنے کا حق پہلے میرا ہےشہزادی کہہ بھی دے ترے سالار چپ رہیں
بولا دوکان دار کہ سرکار دیکھیےمغلوں کی آن بان کے آثار دیکھیے
کہا جو میں نے غلط کر رہی ہو چن کے مجھےاچانک اس نے کہا چپ یہ بات سن کے مجھے
کہہ رہا ہوں زباں نہ کھلواؤبات کے زخم کی دوا ہی نہیں
رہ رہ کے ہوتی جاتی ہے دنیا تمام شدہوتا نہیں ہے عشق کا قصہ تمام شد
نثار کرنے لگے اپنی جان پروانےنہ جانے شمع نے کیا کہہ دیا پگھلتے ہوئے
یوں نہ زلفوں کو شانوں پہ بکھرائیے ان کو سلجھائیے ان کو سلجھائیےجان لیں گے کسی کی یہ زلفوں کے خم آپ کو کم سے کم سوچنا چاہیئے
موسم ہے سازگار غزل کہہ رہے ہیں ہمدل پر ہے اختیار غزل کہہ رہے ہیں ہم
ہم سے جب پوچھا گیا کوئی سوالکہہ دیا ایسا ہوا ویسا ہوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books