aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",TAut"
علی حسن سمند طور
مصنف
شہاب الدین تورپشتی
مرکز توعیتہ الفقہ اسلامی، حیدرآباد
ناشر
طاؤس
شاعر
مطبع تت بودہنی پریس، بریلی
بس ایک بات کوئی نہیں جانے گاپھانسی لگاتے ہوئے ٹوٹ لائن لگائیں
عہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمن
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرےروز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میںتم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
کسی کے دور جانے سےتعلق ٹوٹ جانے سے
س انتخاب میں اخترالایمان کی چند نظمیں شامل ہیں۔ اردو میں عام طور پرغزل کی صنف کو زیادہ سراہا گیا اور تقریباً ہر شاعر کی کوشش ہوتی ہے کی وہ غزل کہے مگر اخترالایمان نے غزل کے بجائے نظم کو چنا اور نظم کے ایک کامیاب شاعر کی صورت میں مقبول ہوئے ان کی سب سے مشہور نظم " ایک لڑکا ہے" جو اس انتخاب کا حصّہ ہے۔ ہم ان کے یوم وفات پراس انتخاب کے ذریعہ ان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔
तौ' طَوع
رغبت، رضا مندی
عربی
टूट ٹُوٹ
شکستگی
तूट تُوٹ
رک: ٹوٹ پھوٹ.
तूत تُوت
ایک درخت اور اس کا پھل، جس کی شاخیں لمبی اور لچک دار ہوتی ہیں اور پتوں پر ریشم کے کیڑے پرورش پاتے پیں، پھل تین انگل سے پان٘چ ان٘گل تک لمبا ہوتا ہے، اس کی دو قسمیں ہیں، ایک سفید زردی مائل، دوسرا سیاہ سرخی مائل، شہتوت
طاؤس چمن کی مینا
نیر مسعود
افسانہ
گھنگرو ٹوٹ گئے
قتیل شفائی
خود نوشت
حامض الاسنان
محمد افتخارالحق
تحقیق / تنقید
اور تلوار ٹوٹ گئی
نسیم حجازی
طاعون
البیرکامیو
ناول
المعتمد فی المعتقد
ترجمہ
نظام جاہلیت سے تعاون اسلامی نقطۂ نظر سے
صدرالدین اصلاحی
اسلامیات
رقص طاؤس
سلیم ساغر
رباعی
تخت طاؤس
محمد عبداللطیف خان کشتہؔ
تاریخ
سوویت روس اور ترقی پذیر ممالک باہمی تعاون
شمارہ نمبر-003
شہناز احد
ٹوٹ بٹوٹ
الدوا والدعا
شاہ محمد منعم
طب
نصیحت نامۂ طاعون
توت تو چان
رسالہ طاعون
پارسناتھ چٹرجی
اب اپنے طور ہی میں نہیں تم سو کاش کہخود میں خود اپنا طور کوئی دم ملے تمہیں
عشق ہے طرز و طور عشق کے تئیںکہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق
اتنا معلوم ہے خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا!
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیاساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہمآندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھےاخیر اب تجھے آشوب روزگار کیا
تیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑ
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائےکوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہےجس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
کام کی بات میں نے کی ہی نہیںیہ مرا طور زندگی ہی نہیں
عجب بے ماجرا بے طور بیزارانہ حالت ہےوجود اک وہم ہے اور وہم ہی شاید حقیقت ہے
اس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئیآس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books