aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",puLA"
پوجا بھاٹیا
born.1977
شاعر
کنپریا
born.1988
پوجا پرستش
کرشمہ بکس، شیخ پورہ
مصنف
ڈاکٹر سیدہ طیبہ خاتون، پیلہ تالاب، رام پور
ناشر
فدی پولو
پوجا مہرا گپتا
فن کار
مطبع فخر المطابع، بلوچ پورہ
مکتبۂ نور مسلم پورہ، آندھرا پردیش
مکتبۂ قادریہ پورہ معروف، مئو
جین متر منڈ دھرم پورہ ، دہلی
اسٹینلے ایڈورڈ لین پول
1830 - 1867
پوجا گائتونڈے
حسن خالق اسلام پورا، مالیگاؤ
آل آرٹسٹ ایسو سی ایشن، پونہ
سوکھی گھاس کا پلا دیکھابے رس کا رس گلا دیکھا
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگاآسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہےمزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتابجیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتابجیسے مفلس کی جوانی جیسے بیوہ کا شباباے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
پورا دکھ اور آدھا چاندہجر کی شب اور ایسا چاند
اپنی فکر اور سوچ کے دھاروں سے گزر کر کلی طور سے کسی ایک نتیجے تک پہنچنا ایک ناممکن سا عمل ہوتاہے ۔ ہم ہر لمحہ ایک تذبذب اور ایک طرح کی کشمکش کے شکار رہتے ہیں ۔ یہ تذبذب اور کشمکش زندگی کے عام سے معاملات سے لے کر گہرے مذہبی اور فلسفیانہ افکار تک چھائی ہوئی ہوتی ہے ۔ ’’ ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر‘‘ اس کشمکش کی سب سے واضح مثال ہے ۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ کو کشمکش کی بے شمار صورتوں کو بہت قریب سے دیکھنے ، محسوس کرنے اور جاننے کا موقع ملے گا ۔
फूलाپُھولا
ہندی
مالی، باغبان
पूराپُورا
سنسکرت
طاقت، برتا، مقدرت، بھروسا
पूराپُورَہ
فارسی
چھوٹی بستی، محلّہ، (مرکبات میں مستعمل) جیسے: مغل پورہ، باغبان پورہ
बुला'بُلَع
عربی
(نجوم) سنائیں نچھتروں (منازل) میں سے تیئیسواں نچھتر.
نئی نظم اور پورا آدمی
سلیم احمد
پورا منٹو
شمس الحق عثمانی
تنقید
خیالی پلاؤ
قرۃالعین حیدر
ترجمہ
مسلمان شاہی خاندان اور ان کے سلسلے
اسٹینلی لین پول، لندن
تاریخ
مسلمانان اندلس
تاریخ اسلام
دسواں پل
کرشن چندر
افسانہ
حضرت محمد کا ذکر اور مورتی پوجا کی ممانعت
سرور فاروقی ندوی
پل صراط
اکرام بریلوی
ناول
تاریخ اردو ادب پونہ : ایک تحقیق
مرزا حمید بیگ تحمل قادری
تاریخ ادب
الٹ پلٹ
روہنی نیلیکنی نونی
پرتھم بکس
سلطان صلاح الدین
سعیدہ مظہر
تاریخ اندلس
روئے زمین کے مسلمان سلاطین
دادر پل کے بچے
تو کسی ریل سی گزرتی ہےمیں کسی پل سا تھرتھراتا ہوں
اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گلتو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا
چشم میگوں سے ہے مغاں نے کہامست کر دے مگر پلا ہی نہیں
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیےمیں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیے
میں نے جس لمحے کو پوجا ہے اسے بس اک بارخواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں
میں نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہےمیرے حصے میں بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہئے
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہےمیں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی
یہ کائنات عظیملگتا ہےاپنی عظمت سےآج بھی مطمئن نہیں ہےکہ لمحہ لمحہوسیع تر اور وسیع تر ہوتی جا رہی ہےیہ اپنی بانہیں پسارتی ہےیہ کہکشاؤں کی انگلیوں سےنئے خلاؤں کو چھو رہی ہےاگر یہ سچ ہےتو ہر تصور کی حد سے باہرمگر کہیں پریقیناً ایسا کوئی خلا ہےکہ جس کوان کہکشاؤں کی انگلیوں نےاب تک چھوا نہیں ہےخلاجہاں کچھ ہوا نہیں ہےخلاکہ جس نے کسی سے بھی ''کن'' سنا نہیں ہےجہاں ابھی تک خدا نہیں ہےوہاںکوئی وقت بھی نہ ہوگایہ کائنات عظیماک دنچھوئے گیاس ان چھوئے خلا کواور اپنے سارے وجود سےجب پکارے گی''کن''تو وقت کو بھی جنم ملے گااگر جنم ہے تو موت بھی ہےمیں سوچتا ہوںیہ سچ نہیں ہےکہ وقت کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا ہےیہ ڈور لمبی بہت ہےلیکنکہیں تو اس ڈور کا سرا ہےابھی یہ انساں الجھ رہا ہےکہ وقت کے اس قفس میںپیدا ہوایہیں وہ پلا بڑھا ہےمگر اسے علم ہو گیا ہےکہ وقت کے اس قفس سے باہر بھی اک فضا ہےتو سوچتا ہےوہ پوچھتا ہےیہ وقت کیا ہے
ادراک ابھی پورا تعاون نہیں کرتادے بادۂ گلفام میں کچھ سوچ رہا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books