aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "اذیت"
اجیت سنگھ حسرت
شاعر
اجیت سنگھ بادل
born.1973
اجیت کمار دل
عذیق الرحمٰن صارم
اجیتیندرا آزی تمام
born.1994
اجیت کور
مصنف
تاراچندر ہریت
آیت اللہ عبدالحسین شرف الدین
سردار اجیت سنگھ
مدیر
آیت اللہ العظمیٰ
اجیت کمار
بھائی اجیت سنگھ
مترجم
آیت اللہ شیرازی
کتاب خانہ عمومی آیت اللہ، ایران
ناشر
اجیت پرشاد جین سہارنپوری
تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیںپس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو
ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافرپاؤں بھی ہیں شل شوق سفر بھی نہیں جاتا
آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگراس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
تمہیں مجھ سے جو نفرت ہے وہی تو میری راحت ہےمری جو بھی اذیت ہے وہی تو میری لذت ہے
اذیت ناک امیدوں سے تجھ کواماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو
میراجی اردو ادب میں اپنے بالکل مختلف رنگ کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انکی شاعری میں انسانی وجود ، اسکے کرب اور اذیت کی روداد اور موجودگی کا بین سنایی دیتا ہے۔ ہم نے اردو ادب کے باذوق قارئین کےلیے میراجی کی دس نطموں کا انتخاب کیا ہے۔ پڑھیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی بانٹیے۔
یہاں ایسی 10 غزلیں دی جا رہی ہیں جسے سنتے ہوئے ہم ماضی کے ساۓ میں کھو جاتے ہیں
یوں تو بظاہر اپنے آپ کو تکلیف پہنچانا اور اذیت میں مبتلا کرنا ایک نہ سمجھ میں آنے والا غیر فطری عمل ہے ، لیکن ایسا ہوتا ہے اور ایسے لمحے آتے ہیں جب خود اذیتی ہی سکون کا باعث بنتی ہے ۔ لیکن ایسا کیوں ؟ اس سوال کا جواب آپ کو شاعری میں ہی مل سکتا ہے ۔ خود اذیتی کو موضوع بنانے والے اشعار کا ایک انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں ۔
دوسروں کی اذیت کا نظارہ
سوزن سونٹاگ
ناول
تیرے نام
مجموعہ
ہدیۃ الشرف
نامعلوم مصنف
ترجمہ
قصائی باڑہ
خواتین کی تحریریں
آیت اللہ الکامل
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
توبہ
اسلامیات
داستان ایک جنگلی رات کی
خانہ بدوش
خود نوشت
رفیع احمد قدوائی
نثر
سحر ہونے تک
تفسیر آیت مودۃ القربی
تفسیر آیت استخلاف
مولانا محمد عبدالشکور فاروقی
تنویر فن
ہئیت جدید
سید برکت علی شاہ
دیگر
گوری
زندگی ایک اذیت ہے مجھےتجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے
ہر اک اذیتہر ایک لذت
اذیت مصیبت ملامت بلائیںترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
میری امیدوں کا حاصل مری کاوش کا صلہایک بے نام اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیںیہ اذیت بڑی اذیت ہے
اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کوزخم کھلتے ہیں اذیت نہیں ہوتی مجھ کو
میرے ہم سفرنے ایک آہ بھری، ’’ ایسے نازک معاملوں میں طوائفیں اور کسبیاں بھی اپنی مائیں بہنیں ہوتی ہیں۔۔۔ مگر بھائی جان یہ ملک اپنی عزت و ناموس کو میرا خیال ہے پہچانتا ہی نہیں۔ جب اوپر سے علاقے کے تھانیدار کو آرڈر ملا تو وہ فوراً تیار ہوگیا۔...
ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیںدیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کے
سب عہد اذیت کےبے کار گئے آخر
تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتیخود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books