aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "قبول"
سید محمد قبول بادشاہ حسنی
ناشر
مولوی قبول محمد مرحوم
مصنف
دفتر المسیح قرول باغ، دہلی
مکتبہ جامعہ اسلامیہ، قرول باغ، دہلی
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہےیہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی
شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھکیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ
یہ زندگی جو ہے اسے معنیٰ بھی چاہیےوعدہ ہمیں قبول ہے ایفا کیے بغیر
کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطفکہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری
ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپناقبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح
فراق گورکھپوری کی پیدائش 1896 میں گورکھپور میں ہوئی ۔ ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں فراق کا نام اہمیت کا حامل ہے ۔ اپنی شاعری میں ہندوستانی تہذیبی حوالوں اور لفظیات اور تنقیدی تبصروں کے لئے معروف ۔ انھیں گیان پیٹھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں
ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر
क़ुबूलقُبُول
اقرار، تسلیم، منظور
क़ुबूल करनाقُبُول کَرْنا
پوری کرنا (دعا وغیرہ کا)
क़ुबूल होनाقُبُول ہونا
قبول کرنا کا لازم
क़ुबूल देनाقُبُول دینا
مان لینا، اقبال کرنا، کہہ دینا، اقرار کرنا
میں نے اسلام کیوں قبول کیا
خالد حامدی
ہماری دعا کیوں قبول نہیں ہوتی
حکیم محمد سعید دہلوی
کفر کے اندھیروں سے نور اسلام تک
غازی احمد
خود نوشت
ہفت قلزم
لغات و فرہنگ
قبول اسلام
مولوی پنڈت ذوالفقار حیدر
ہماری دعا قبول کیوں نہیں ہوتی
مولانا سعید احمد
اسلامیات
میں نے کیوں اسلام قبول کیا
محمد مشتاق احمد
دیوان قبول
نامعلوم مصنف
این نسخہ قبول علم دارد
نورالحسن
حکایات
سلطانہ نے کانوں کے لیے بُندے خریدے۔ ساڑھے پانچ تولے کی آٹھ کنگنیاں بھی بنوالیں۔ دس پندرہ اچھی اچھی ساڑیاں بھی جمع کرلیں، گھرمیں فرنیچر وغیرہ بھی آگیا۔ قصہ مختصر یہ کہ انبالہ چھاؤنی میں وہ بڑی خوش حال تھی مگر ایکا ایکی نہ جانے خدا بخش کے دل میں...
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کیدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
قبول کیسے کروں ان کا فیصلہ کہ یہ لوگمرے خلاف ہی میرا بیان مانگتے ہیں
کہ آرزو کے کنول کھل کے پھول ہو جائیںدل و نظر کی دعائیں قبول ہو جائیں
مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیںقسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے
راضی ہوں یا خفا ہوں وہ جو کچھ بھی ہوں شکیلؔہر حال میں قبول ہے ان کی خوشی مجھے
ہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبولغنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلک
شکر کرم کے ساتھ یہ شکوہ بھی ہو قبولاپنا سا کیوں نہ مجھ کو بنا کر چلے گئے
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books