aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "مسجد_جامع"
دارالکتاب جامع مسجد، دہلی
ناشر
جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد، امروہہ
سینٹرل بکڈپو جامع مسجد، دہلی
القلم پبلیکیشنز، جامع مسجد، دہلی
مکتبہ العزیز، جامع مسجد دیوبند، دیوبند
جسیم بکڈپو مٹیا محل جامع مسجد دہلی
کتب خانہ نذیریہ اردو بازار جامع مسجد
محشر خیال بک ڈپو، جامع مسجد، دہلی
آگے کچھ بڑھ کر ملے گی مسجد جامع ریاضؔاک ذرا مڑ جائیے گا میکدے کے در سے آپ
اس ادب گاہ کوں توں مسجد جامع مت بوجھشیخ بے باک نہ جا گوشۂ مے خانے میں
اس بت کا کوچہ مسجد جامع نہیں ہے شیخاٹھئے اور اپنا یاں سے مصلیٰ اٹھائیے
واہ دلی کی مسجد جامعجس میں براق فرش سنگی ہے
بے پیے واعظ کو میری رائے میںمسجد جامع میں جانا ہی نہ تھا
واعظ کلاسیکی شاعری کا ایک اہم کردار ہے جو شاعری کے اور دوسرے کرداروں جیسے رند ، ساقی اور عاشق کے مقابل آتا ہے ۔ واعظ انہیں پاکبازی اور پارسائی کی دعوت دیتا ہے ، شراب نوشی سے منع کرتا ہے ، مئے خانے سے ہٹا کر مسجد تک لے جانا چاہتا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں بلکہ اس کا کردار خود دوغلے پن کا شکار ہوتا ہے ۔ وہ بھی چوری چھپے میخانے کی راہ لیتا ہے ۔ انہیں وجوہات کی بنیاد پر واعظ کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کا مزاق اڑا جایا جاتا ہے ۔ آپ کو یہ شاعری پسند آئے گی اور اندازہ ہوگا کہ کس طرح سے یہ شاعری سماج میں مذہبی شدت پسندی کو ایک ہموار سطح پر لانے میں مدد گار ثابت ہوئی ۔
دہلی کی جامع مسجد
جامع مسجد کے واقعات
نامعلوم مصنف
کتب خانہ جامع مسجد بمبئی میں اردو مخطوطات
حامد اللہ ندوی
مخطوطات
جگن ناتھ آزاد
نظم
کتب خانہ جامع مسجد ممبئی کے اردو مخطوطات
دارالعلوم جامع مسجد میرٹھ شہر
مبارک علی (مبارک حسین)
جامع صحیح مسند بخاری
سید زین العابدین
اسلامیات
جامع الشواھد فی دخول غیر المسلم فی مساجد
ابوالکلام آزاد
دیگر
پر تھا پہلوئے مسجد جامعروشنیاں تھیں ہر سو لامع
پھر میرؔ آج مسجد جامع کے تھے امامداغ شراب دھوتے تھے کل جانماز کا
آئے میخانے میں جب مسجد جامع سے ریاضؔساتھ ہی آپ کے قبلے سے گھٹا بھی آئی
چاندنی چوک کو سینہ کہیں اور قلعہ کو سرمسجد جامع کو ٹھہرائیں میان دہلی
پیے دارو پڑے پھرتے تھے کل تک میرؔ کوچوں میںانہیں کو مسجد جامع کی دیکھی آج امامت ہے
خدا کے ہاتھ ہے بکنا نہ بکنا مے کا اے ساقیبرابر مسجد جامع کے ہم نے اب دکاں رکھ دی
اس ادب گاہ کوں توں مسجد جامع مت بوجھشیخ بے باک نہ جا گوشۂ مئے خانے میں
مسجد میں آئے ہنستے ہوئے جب وہ گل بدنخوشبو سے صحن مسجد جامع بنا چمن
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books