aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".arvi"
آسی آروی
born.1921
شاعر
محمد علوی
1927 - 2018
صابر آروی
born.1933
تنویر احمد علوی
1925 - 2013
احمد علوی
born.1956
شمسی مینائی
1919 - 1988
عباس علوی
died.2021
آرسی
شاکر آروی
born.1940
مصنف
صفیہ راگ علوی
وارث علوی
1928 - 2014
سید ضیا علوی
1946 - 2026
حبیب آروی
نعیم آروی
مظہر الحق علوی
1926 - 2013
کہاں کسی کی نظر ہے تری نظر کی طرحجو کام دل کا بھی کرتی چلے جگر کی طرح
نہ آنا تھا نہ آیا آنے والاگیا دنیا سے آخر جانے والا
ہزار زخم ہیں دل پر جگر پہ کھائے ہوئےمگر ملے جو کسی سے تو مسکرائے ہوئے
دیار عشق میں واعظ خرد کا کام نہیںادھر نہ بھول کے جانا وہ راہ عام نہیں
دیکھا ہے اک نظر انہیں انجام جو بھی ہوقسمت میں اپنی اے دل ناکام جو بھی ہو
ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ
अरवी اَرْوی
سنسکرت
ایک قسم کی گانٹھ والی جڑ جو ترکاری کے طور پر پکائی جاتی ہے(پتے، چوڑے اور بڑے جن کے پتوّے پکاتے ہیں)
आर्वी آروی
शफ्तालू, एक फल
'आरज़ी عَارْضِی
عربی
غیر مستقل، چند روزہ، وقتی، اتفاقیہ
और्ती اَورْطی
فارسی
اورطہ (رک) سے منسوب.
بہار کی فارسی شاعری کے فروغ میں شعرائے پھلواری کا حصہ
رضوان اللہ آروی
اقبال کی شاعری
عبدالمالک آروی
شاعری تنقید
شبنم خستہ حال
مجموعہ
آرا ایک شہر سخن
ماہر آروی
آرا جو ایک شہر ہے
ہندوستانی تاریخ
مقام محمود
مقالات/مضامین
گنجینۂ عرفاں
متاع احساس
سفینۂ عرفاں
ٹھہرا ہوا سورج
افسانہ
چراغوں کا دھواں
رپورتاژ
آدمی
واحد اٰروی
نظم
آئینۂ عرفاں
قطعہ
بستی کا آخری آدمی
اپیل
چاہے جو حال بھی ہو ان کی نظر ہونے تکہم جئے جائیں گے آہوں میں اثر ہونے تک
تری بربادیوں کا ذکر بزم دل براں تک ہےکہاں کی بات ہے اے دل مگر پہنچی کہاں تک ہے
ویسے اس آب و گل میں کیا نہ ہواکوئی بندہ مگر خدا نہ ہوا
نہ قہقہہ نہ تبسم نہ اشک پیہم ہےجہاں پہ ہم ہیں وہاں کچھ عجیب عالم ہے
ایسا نہیں کوئی کہ شناسا کہیں جسےملتا کہاں ہے کوئی ہم اپنا کہیں جسے
داغ دل اپنا کسی طرح دکھائے نہ بنےاور چاہوں جو چھپانا تو چھپائے نہ بنے
زلف شب کا سایہ بھی کس قدر گھنیرا ہےدل سے ان کی محفل تک راستہ اندھیرا ہے
یوں جوانی آئی رخصت ہو گئیآئنہ دیکھا تو حیرت ہو گئی
اس طرح درد کا تم اپنے مداوا کرنایاد ماضی کو چراغ رہ فردا کرنا
تو میکدہ میں اک ایسا نظام پیدا کرکہ سب کے لب کو جو پہنچے وہ جام پیدا کر
شکستہ ساز محبت کی اک صدا ہوں میںجو رہ گئی ہے لرز کر وہ التجا ہوں میں
نظر میں خضر کوئی ہے نہ ابن مریم ہےعجب بلا میں گرفتار ابن آدم ہے
مجھ کو تم سے نہیں گلہ کوئیدرد دل کی بھی ہے دوا کوئی
کدو کریلا اروی آلوبیگن ٹنڈا اور شفتالو
کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ رکھا ہےتیری محفل میں یہی پاس وفا رکھا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books