aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".fqo"
پیکو لمیٹڈ، لاہور
ناشر
پیکو آرٹ پریس،
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورناتری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سےڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
جن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيم
पिचो پِچو
روئی
سنسکرت
fcp۔ fcp۔
تخفیف: (کاغذ کا سائز).
fao fao
تخفیف:(of the United Nations) Food and Agriculture Organizatio.
fro fro
واپس (اب صرف to and fro میں) رک:
پاک و ہند کی جڑی بوٹیاں
صوفی لچھمن پرشاد
آیوروید
بر عظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ
اشتیاق حسین قریشی
دیگر
1857 پاک و ہند کی پہلی جنگ آزادی
غلام رسول مہر
تذکرہ اولیائے پاک و ہند
مرزا محمد اختر دہلوی
تذکرہ
برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں علماء کا کردار
ایچ۔ بی۔ خان
عربی ادبیات میں پاک و ہند کا حصہ
ڈاکٹر زبید احمد
تاریخ
برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا قدیم نصاب تعلیم
بر صغیر پاک و ہند میں تصوّف کی اردو مطبوعات
محمد نذیر رانجھا
ملفوظات
فقہائے پاک و ہند
محمد اسحاق بھٹی
اسلامیات
برصغیر پاک و ہند کے علمی، ادبی اور تعلیمی ادارے
ابو سلمان شاہجہانپوری
تعلیم
طارق چھتاری فکر و فن
احمد علی جوہر
فکشن تنقید
برصغیر پاک و ہند میں قوم پرستی کی تحریکیں اور ان کی تاریخ
عبد اللہ ملک
برصغیر پاک و ہند کی شرعی حیثیت
تحلیل نفسی کے پیچ و خم
سلامت اللہ خان
مضامین
ہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تابرحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
قصۂ زلف یار دل کے لیےہیں عجب پیچ و تاب کی باتیں
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیںکبھی سوز و ساز رومیؔ کبھی پیچ و تاب رازیؔ
زلف کوچوں میں شانہ کش نے ترےکتنے ہی پیچ و تاب بیچے ہیں
اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہےجتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
شام کے پیچ و خم ستاروں سےزینہ زینہ اتر رہی ہے رات
کیسے بچوں کو بتاؤں راستوں کے پیچ و خمزندگی بھر تو کتابوں کا سفر میں نے کیا
جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تابدیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیامہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں
دل کی دھڑکن ہے ڈوبنے کے قریبسانس ہر لحظہ پیچ و تاب میں ہے
ابھی تک راستے کے پیچ و خم سے دل دھڑکتا ہےمرا ذوق طلب شاید ابھی تک خام ہے ساقی
رہ حیات میں کچھ ایسے پیچ و خم تو نہ تھےکسی حسین نے رستے میں آ کے مار دیا
کئی زمانے اسی پیچ و تاب میں گزرےکہ آسماں کو ترے پاؤں پر جھکا دیتے
مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہےمیں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنا کا
تری زلفوں کو کیا سلجھاؤں اے دوستمری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books