aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".sya"
امانت لکھنوی
1825 - 1858
شاعر
سیا سچدیو
born.1967
عابد سیال
امت برج شا
قاضی خورشید الدین خورشید
1910 - 1994
صالح منیر
مصنف
سید مظہر علیم
سید مظہر الحق
ایس اے پبلشنگ ہاوس، انڈیا
ناشر
سید ابن حسن نجفی
سید روح الامین
سید ابن حسن قیصر
مدیر
سید اولاد حسین شاداں
کرشنا ستیہ نند
ایس۔ اے۔ عباسی
عطیہ کار
شکن زلف عنبریں کیوں ہےنگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پراپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے
تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرضتم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو
نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہواسے اتنی گرمیٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو
ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتناوہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں
سایہ شاعری ہی کیا عام زندگی میں بھی سکون اور راحت کی ایک علامت ہے ۔ جس میں جاکر آدمی دھوپ کی شدت سے بچتا ہے اور سکون کی سانسیں لیتا ہے ۔ البتہ شاعری میں سایہ اور دھوپ کی شدت زندگی کی کثیر صورتوں کیلئے ایک علامت کے طور پر برتی گئی ہے ۔ یہاں سایہ صرف دیوار یا کسی پیڑ کا ہی سایہ نہیں رہتا بلکہ اس کی صورتیں بہت متنوع ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح دھوپ صرف سورج ہی کی نہیں بلکہ زندگی کی تمام ترتکلیف دہ اور منفی صورتوں کا استعارہ بن جاتی ہے ۔
سمندر کو موضوع بنانے والی شاعری سمندر کی طرح ہی پھیلی ہوئی ہے اور الگ الگ ڈائمینشن رکھتی ہے ۔ سمندر ، اس کی تیزوتند موجیں خوف کی علامت بھی ہیں اور اس کی صاف وشفاف فضا ، ساحل کا سکون اوربیکرانی، خوشی کا استعارہ بھی ۔ آپ اس شاعری میں دیکھیں گے کہ کس طرح عام سا نظر آنے والا سمندر معنی کے کس بڑے سلسلے سے جڑ گیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور لطف لیجئے ۔
सा ثا
(تصوف) ’ ثا ‘ ثواب دارین یا وہ ازلی لطف و احسان جو حق سبحانہ تعالی کی طرف سے ہو
सा سا
سنسکرت, ہندی
ایک حال پر قائم ، ایک حال میں.
क्या کیا
what all
सा' صاع
عربی
ایک وزن یا پیمانہ، جو تقریباً تین یا ساڑھے تین سیر اور بعض کے نزدیک ۳ سیر ایک چھٹانک یا ۲۳۴ تولے کے برابر ہوتا ہے، جو یا گندم ناپنے کا ایک پیمانہ
سپنا سا لگے
خدیجہ خان
غزل
کھویا ہوا سا کچھ
ندا فاضلی
مجموعہ
ایک چھوٹا سا جہنم
ساجد رشید
افسانہ
غلام عباس سوانح و فن کا تحقیقی جائزہ
سویا مانے یاسر
تنقید
موت کا سایہ
جیمز ہیڈلی چیس
جادو، جنات، آسیب، سایا کا قرآنی آیات سے علاج
مولانا محمد طاہر
اسلامیات
عام سا رد عمل
شارق کیفی
بادل کا سایہ
شہناز کنول
رومانی
سچ محبت اور ذرا سا کینہ
خوشونت سنگھ
خود نوشت
طبیب الغربا
حکیم سید غلام حسین
شجر ھائے سایہ دار
عبادت بریلوی
تذکرہ
شجر سایہ دار
افسانہ / کہانی
ﷺ مجموعہ نعت
حفیظ تائب
تھوڑا سا ٹیگور
ف س اعجاز
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
احمد ابو سعید
بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
اے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
نخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ تو
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہوسایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلےکوئی قصہ سناتی رہی رات بھر
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیںدبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میںجی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتاجو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
آج ملنے کی خوشی میں صرف میں جاگا نہیںتیری آنکھوں سے بھی لگتا ہے کہ تو سویا نہ تھا
آتے آتے مرا نام سا رہ گیااس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیںکوئی خاموش ہو گیا ہے کہیں
آنکھوں میں نمی سی ہے چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیںنازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانا ہے
دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخررات کا لبادہ بھی
کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملےمدعا ہم کو انتقام سے ہے
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہےاس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books