aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHaama"
مایا کھنّہ راجے بریلوی
born.1942
شاعر
بھارت چند کھنہ
1912 - 1995
مصنف
عبدالرحیم خانخاناں
1556 - 1637
ثمر خانہ بدوش
born.1985
مجید کھام گانوی
گلشن کھنہ
1934 - 2019
کتب خانہ آصفیہ، حیدرآباد دکن
ناشر
کتب خانہ انجمن ترقی اردو، اردو بازار، دہلی
نوری کتب خانہ، لاہور
کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند
کتب خانہ شاہ نامہ اسلام،لاہور
کتب خانہ رحیمیہ، دہلی
کتاب خانہ نورس، لاہور
امامیہ کتب خانہ، لاہور
طبی کتب خانہ، لاہور
پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دلساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے
مانند خامہ تیری زباں پر ہے حرف غیربیگانہ شے پہ نازش بے جا بھی چھوڑ دے
درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوںانگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
کہ جیسے بستر کم خواب ہو دیبا و مخمل ہومجھے اقرار ہے یہ خیمۂ افلاک کا سایہ
ख़ामा خاما
خاما زمین کے معنوں میں ہے .
ख़ामा خامَہ
قلم، کلک
فارسی
ख़ाया خایَہ
خُصیہ، فوطہ، عضو تناسل، ذکر، قضیب (گالی کے مفہوم میں بولا جاتا ہے)
ख़ाला خالَہ
ماں کی بہن، ماسی
عربی
خامہ بگوش کے قلم سے
مشفق خواجہ
مضامین
اردو رباعیات کا اولین دیوان
عبد الغفور نساخ
رباعی
خیال و خامہ
جاوید احمد غامدی
خامۂ دل
ابن احمد تاب
مجموعہ
خامہ گل ریز
محمد سفیان قاسمی
خامہ تلاشی
ابو الفیض معینی
انٹرویو
عکس خامہ
سید ظل الرحمٰن
تنقید
ضمیر خامہ
رئیس امروہوی
صریر خامہ
ثاقب انور
لغزش رفتار خامہ
بیدار بخت
ذوق خامہ
شوکت واسطی
سفر خامہ
شاہدالاسلام
شاعری تنقید
خامۂ خسرو
اخترالواسع
خامہ در خامہ
محمد علی اثر
خامۂ مانی
سلیمان احمد مانی
خانہ گھر ہے اور کوٹھا بام ہےقلعہ دژ کھائی کا خندق نام ہے
ہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھناجب مرے ہاتھ کوئی خامۂ فولاد آیا
سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانییقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیبپاۓ طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے
کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہمآپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوبمگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا
نگاۂ چشم حاسد وام لے اے ذوق خود بینیتماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینۂ دل کا
ہے صریر خامہ ریزش ہائے استقبال نازنامہ خود پیغام کو بال و پر پرواز ہے
ہے فلک بالا نشین فیض خم گر دیدنیعاجزی سے ظاہراً رتبہ کوئی برتر نہیں
نہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کوپریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانی کی
چہرۂ جاناں سے شرما کر چھپایا خلد میںخامۂ تقدیر نے کھینچا جو نقشہ حور کا
عشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہےخامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہے
کیا کہوں بیماریٔ غم کی فراغت کا بیاںجو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا
اشجار ہوویں خامہ و آب سیہ بحارلکھنا نہ تو بھی ہو سکے اس کی صفات کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books