aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "adse"
شیوا جی راؤ آئیڈے
مصنف
ادب لطیف اشاعت گھر، تاشقند
ناشر
ایجوکیشنل ٹیکنکیز اینڈ ویزوول ایڈس ڈیولپمنٹ سینٹر، فریدآباد
عکس نو پبلیکیشنز، لاہور
ایک بھیانک سپنا: آگ میں لپٹی جلتی جاؤںچولی میں اڑسے سکوں کے سنگ پگھلتی جاؤں
دم بخود سارے مکاںایسے نظر آتے تھے
نیفے میں اڑسے ہوئے نوٹ کرارے دو چاراور کمر بند میں چابی کا وہ بھاری گچھا
عکس گھٹتے بڑھتے ہیں شیشہ گری ہے ایک سیسوچ کے عدسے جدا ہیں روشنی ہے ایک سی
مری کنپٹیوں پر تجربوں کی کچھ سفیدی ہےمری عینک کے عدسے میری بینائی پہ ہنستے ہیں
اردو کے کئی ادیبوں اور شاعروں نے مرزا غالب کے اشعار سے متاثر ہو کر اپنی کتابوں کے نام رکھے ہیں۔ ان کتابوں کے موضوعات مختلف ہیں، لیکن عنوانات غالب کے اشعار کی خوبصورتی اور مقبولیت سے متاثر ہو کر رکھے گئے ہیں۔ ایسی کتابوں کا ایک دل چسپ انتخاب ریختہ ای لائبریری میں دستیاب ہے، جہاں آپ آسانی سے مطالعہ کر سکتے ہیں۔
اکبر الہ آبادی کے 20 بہترین اشعار
شاعری میں تخیل کی پروازنے بدن کی عام سی حرکات کو بھی حسن کے ایک دلچسپ بیانیے میں تبدیل کردیا ہے ۔ انگڑائ اوراس کی پوری جمالیات جس رنگا رنگی کے ساتھ اردو شاعری میں نظرآتی ہے وہ شاعروں کے ذہن کی زرخیزی اور ان کے تخیل کی بلند پروازی کا ایک بڑا ثبوت ہے ۔ بعض اشعار کو پڑھ کرتوایسا محسوس ہوتا ہے کہ حسن کا واحد مرکزانگڑائی کا عمل ہی ہے ۔ محبوب کے بدن میں فن کاروں کی دلچسپی کی یہ کتھا ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے ۔
आनेآنے
آنا کی مغیرہ حالت، ترکیبات میں مستعمل
आतेآتے
آتا کی جمع یا مغیرہ حالت اورترکیبات میں مستعمل
आटेآٹے
خشک پسی ہوئی چیز، سفوف، برادہ، چورا
आएآئے
۱. آئے ہوئے، ترکیبات میں مستعمل، جیسے : آئے حواس جانا (رک).
آدھے گھنٹے کا خدا
کرشن چندر
نصابی کتاب
عکس اسرار خودی
علامہ اقبال
ترجمہ
عود ہندی
مرزا غالب
تاریخ و تنقید
آدھے چاند کی رات
اصغر ندیم سید
ناول
عکس لالۂ طور
شاعری
اسلام میں عدل اجتماع
سید قطب شہید
کالا جادو اور عکس جن
محمد ندیم
اڑتے خاکے
سید ضمیر جعفری
خاکے/ قلمی چہرے
کاربن کی کہانی اور اس سے بننے والی چیزیں
مصطفی حسن رضوی
سائنس
کشمیری لال ذاکر
احوال عرس مقدس بابا فرید گنج شکر
سید امام علی شاہ
چشتیہ
آدھے ادھورے
خورشید عالم
افسانہ
ایسے تھے گاندھی جی
یو۔ آر۔ راؤ
سوانح حیات
یہ ہماری زندگی اور آدھے چاند کی رات
دلیپ کورٹوانہ
عکس غالب
آل احمد سرور
ایک مجوف عدسے سےمیں دنیا کو دیکھ رہا تھا
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیںجو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیںبارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا
کام عشق کے آڑے آتا رہااور عشق سے کام الجھتا رہا
اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سےایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکناسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوںجو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books