aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "altaaf"
الطاف حسین حالی
1837 - 1914
شاعر
آزاد انصاری
1871 - 1942
الطاف مشہدی
1914 - 1981
میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
1882 - 1952
الطاف فاطمہ
1929 - 2018
مصنف
شیخ الطاف
born.1998
الطاف الرحمن فکر یزدانی
died.1964
الطاف احمد اعظمی
born.1942
الطاف تنویر
born.1981
الطاف پرواز
1920 - 1992
شگفتہ الطاف
born.1967
الطاف گوہر
صنوبر الطاف
الطاف احمد قریشی
الطاف کشتواڑی
born.1963
دو اشک جانے کس لیے پلکوں پہ آ کر ٹک گئےالطاف کی بارش تری اکرام کا دریا ترا
جرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
اب میں الطاف و عنایت کا سزا وار نہیںمیں وفادار نہیں ہاں میں وفادار نہیں
ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمتہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننامگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
अलताफ़ اَلْطاف
مہربانیاں، عنایتیں، نوازشیں، لطف و کرم
عربی
अल्तफ़ اَلْطَف
بہت صاف شفاف پاکیزہ اور لطیف، نرم و نازک اور باریک، خصوصاً وہ جسم جس میں آر پار نظر آئے (جیسے آئینہ)
अकताफ़ اَکْتاف
مونڈے ، کندھے .
अलयाफ़ اَلْیاف
(لفظاً) ریشے
یادگار غالب
شاعری تنقید
دستک نہ دو
تاریخی
الطاف القدس فی معرفۃ لطائف النفس
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
فلسفہ تصوف
حیات جاوید
سوانح حیات
چپ کی داد
نظم
کلیات حالی
کلیات
صالحہ عابد حسین
خواتین کی تحریریں
غیر افسانوی ادب
مجالس النساء
قصہ / داستان
مناجات بیوہ
تار عنکبوت
کہانیاں/ افسانے
مقدمہ شعر و شاعری
تنقید
مجموعہ نظم حالی
مسدس حالی
مسدس
حیات حافظ رحمت خاں
سید الطاف علی بریلوی
تیرا الطاف و کرم ایک حقیقت ہے مگریہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اورعالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
میں ترے شہر میں انجان ہوں پردیسی ہوںتیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کیدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتیچلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
جانور آدمی فرشتہ خداآدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں
بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کرابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
فراغت سے دنیا میں ہر دم نہ بیٹھواگر چاہتے ہو فراغت زیادہ
حق وفا کے جو ہم جتانے لگےآپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے
ہم نے اول سے پڑھی ہے یہ کتاب آخر تکہم سے پوچھے کوئی ہوتی ہے محبت کیسی
عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شایدخود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماںکہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
ایک روشن دماغ تھا نہ رہاشہر میں اک چراغ تھا نہ رہا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books