aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "apne-aap"
امام ابن الجوزی
مصنف
علامہ نفیس ابن عوض کرمانی
علی ابن الحسین زیدی
مدیر
علامہ ابن العذاری المراکشی
فضا ابن فیضی
1923 - 2009
شاعر
ابن انشا
1927 - 1978
ابن نشاطی
died.1655
ابن صفی
1928 - 1980
ابن کنول
1957 - 2023
ابن امید
ابن حنیف
ابن مفتی
ابن بہروز
ابن قیم الجوزیہ
شکیل ابن شرف
شیخ کچھ اپنے آپ کو سمجھیںمیکشوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں
اب اپنے آپ کو خود ڈھونڈھتا ہوںتمہاری کھوج میں نکلا ہوا میں
ہم اپنے آپ سے آگے گزر جاتے تو اچھا تھاکسی سے پیار کرتے اور مر جاتے تو اچھا تھا
خود اپنے آپ سے لرزاں رہی الجھتی رہیاٹھا نہ بار گراں رات کی جوانی سے
ہم نے خود اپنے آپ زمانے کی سیر کیہم نے قبول کی نہ کسی رہنما کی شرط
سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
اہم ترقی پسند شاعر، ان کی کچھ غزلیں ’ بازار‘ اور ’ گمن‘ جیسی فلموں کے سبب مقبول
ape ape
بَنْدَر
अपे اَپے
آپ، خود
अपने-आप اَپْنے آپ
۱. از خود ، کسی خارجی سبب یا محوک کے بغیر
अपे हो اَپے ہو
اپنی طرف سے.
اپنے آپ کا قیدی
احمد عثمانی
افسانہ
آدمی جس نے اپنے آپ کو بھلا دیا
منیرالدین احمد
اپنے اور پرائے
زلیخا حسین
ناول
کے، ایل، گابا
خود نوشت
دل اپنا اور پریت پرائی
فلمی نغمے
شرح الاسباب والعلامات
آئینے اور عکس
ایم۔ انوار انجم
طب یونانی
لطائف علمیہ
دیگر
اپنے اک خواب کو دفنا کے ابھی آیا ہوں
آدم ابو والا
مجموعہ
تاریخ مغرب
تاریخ
اپنی اور گھر والوں کی اصلاح کی اہمیت اور اس کے تقاضے قرآن و حدیث کے حوالے سے
ظفرالاسلام اصلاحی
اسلامیات
ایک نظم اپنے لیے
ابن سراج
اور کچھ بیاں اپنا
داؤد اشرف
خود اپنے آپ سے ملنے کی خاطرابھی کوسوں مجھے چلنا پڑے گا
آگے نکل گئے تھے ذرا اپنے آپ سےہم کو حبیبؔ خود کی طرف لوٹنا پڑا
مجھے پہنچنا ہے بس اپنے آپ کی حد تکمیں اپنی ذات کو منزل بنا کے چلتا ہوں
روز اپنے آپ سے منسوب ہونا سیکھئےآپ سورج کی طرح مغروب ہونا سیکھئے
خود اپنے آپ سے رہتا ہے آدمی ناراضاداسیوں کے بھی اپنے مزاج ہوتے ہیں
میں اپنے آپ کو آواز دے رہا ہوں ابھیغزل کے ہاتھ میں اک ساز دے رہا ہوں ابھی
جو اپنے آپ سے بیزار ہو گئے ہیں ہمسفر کے واسطے تیار ہو گئے ہیں ہم
کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میںیہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سےاک دن نکل نہ جاؤں ذرا اپنے آپ سے
ہم اپنے آپ کی پہچان لے کے آئے ہیںنئے سخن نئے امکان لے کے آئے ہیں
میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سےسکوں سے کیسے گزرتا یہ راستہ مجھ سے
مل نہیں پاتی خود اپنے آپ سے فرصت مجھےمجھ سے بھی محروم رہتی ہے کبھی محفل مری
خود اپنے آپ سے ہم بے خبر سے گزرے ہیںخبر کہاں کہ تری رہ گزر سے گزرے ہیں
نہ اپنے آپ کو اس طرح در بدر رکھتےپلٹ کے آتے اگر ہم بھی کوئی گھر رکھتے
خود اپنے آپ سے روٹھا ہوا ہوںسمجھتے ہیں وہ میں ان سے خفا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books