aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "apnii"
آفرین فہیم آفی
born.1998
شاعر
سید خادم رسول عینی
born.1968
عینی خان
عافی قادری
born.2004
محمد عوفی
مصنف
غلام حسین داد عفی عنہ
مدیر
عینی شاہ حنفی نظامی
آنی رشیدی
عینی
محمد یعقوب علی عفی
مسز اینی بسنت
عبدالحمید عفی عنہ
ناشر
محمد میاں عفی
عارفہ عینی
اپنے مرادآباد پرنٹنگ پریس، مرآدآباد
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سےسو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
اپنی محرومیاں چھپاتے ہیںہم غریبوں کی آن بان میں کیا
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دونہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
نہ اتنی بے تکلفیکہ آئنہ حیا کرے
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوستسب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
فلم اور ادب میں ہمیشہ سے ایک گہرا تعلق رہا ہے ،اگر بات ہندوستانی فلموں کی ہو تو ان میں استعمال ہونے والی زبان، ڈائلوگز ، اسکرین رائٹنگ اور نغموں میں اردو کا ہمیشہ سے بول بالا رہا ہے جو اب تک جاری ہے۔ آج اس کلیکشن میں ہم نے راجہ مہدی علی خان کے کچھ مشہورنغموں کو شامل کیا ہے ۔ پڑھئے اور کلاسیکل گانوں کا لطف لیجئے۔
अपनी اَپْنی
اپنا کی تانیت
अनी اَنی
برچھی، بلم ، تیر یا کانٹے وغیرہ کی نوک، سنان، بھال
سنسکرت
अपी اَپی
خود ، خود ہی ، اپنے آپ
आनी آنی
وقتی ، عارضی ، آن بھر کا .
عربی, فارسی
اپنی شخصیت کو پرکشش بنائیں
ڈیل گارنیگی
اپنی تلاش میں
کلیم الدین احمد
خود نوشت
سعادت حسن منٹو اپنی تخلیقات کی روشنی میں
محمد محسن
تنقید
مومن قوم اپنی تاریخ کے آئینے میں
محمد ڈینڈرولوی
اپنی نگریا
ممتاز شیریں
خواتین کی تحریریں
اپنی آٓنکھ اپنی دید
خواجہ حسن نظامی
انسان اپنی تلاش میں
رولو مے
سر سید کی کہانی ان کی اپنی زبانی
ضیاء الدین لاہوری
اپنی محفل اپنے دوست
جگن ناتھ آزاد
خاکے/ قلمی چہرے
نیرنگی بخت
وزیر سلطان بیگم جالندھری
اپنی بیتی
اشفاق محمد خاں
اپنی تصویر
اظہر عنایتی
غزل
باپ کے خطوط اپنی بیٹی کے نام جن میں سیرت فاطمۃ الزہرا بنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ طرز خطوط پیش کی گئی ہے
خواجہ معین الدین
خطوط
آزادی کے بعد علی گڑھ کے دانشور کی سوچ اپنی خود نوشت سوانح کے آئینے میں
شائستہ خان
تحقیق
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوںاگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پراپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے
تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میںاور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
اس طرح اپنی خامشی گونجیگویا ہر سمت سے جواب آئے
اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کیجی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھااپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنیتو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے
اتنی مدت بعد ملے ہوکن سوچوں میں گم پھرتے ہو
رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہوسو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہےہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں
حاصل کن ہے یہ جہان خرابیہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھیوہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروںسن رہا ہوں کہ گھر گیا ہوں میں
اپنے سب یار کام کر رہے ہیںاور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books