aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ba-dam"
دربار عالیہ مرشدآباد شریف، پیشاور
ناشر
بی اے ڈار
مصنف
دم بہ دم مجھ پہ چلا کر تلوارایک پتھر کو جلا دی اس نے
دم بہ دم ایک ساتھ بیٹھے ہیںپھر بھی کم ایک ساتھ بیٹھے ہیں
اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیںنہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں
دم بہ دم ٹوٹتی آواز میں گایا ہے مجھےمطرب وقت نے بے صرفہ گنوایا ہے مجھے
عورت کو موضوع بنانے والی شاعری عورت کے حسن ، اس کی صنفی خصوصیات ، اس کے تئیں اختیار کئے جانے والے مرداساس سماج کے رویوں اور دیگر بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔ عورت کی اس کتھا کے مختلف رنگوں کو ہمارے اس انتخاب میں دیکھئے ۔
دوستی کا جذبہ ایک بہت پاک اور شفاف جذبہ ہے ۔ اس سے انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کو جاننے ، سمجھنے اور ایک دوسرے کیلئے جینے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔ شاعروں نے اس اہم انسانی جذبے اور رشتے کو بہت پھیلاؤ کے ساتھ موضوع بنایا ہے ۔ دوستی پر کی جانے والی اس شاعری کے اور بھی کئی ڈائمینشن ہیں ۔ دوستی کب اور کن صورتوں میں دشمنی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ؟ ہم سب اگرچہ اپنی عام زندگی میں ان حالتوں سے گزرتے ہیں لیکن شعوری طور پر نہ انہیں جان پاتے ہیں اور نہ سمجھ پاتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور ان انجانی صورتوں سے واقفیت حاصل کیجئے ۔
یوم آزادی پر لکھی یہ نظمیں ہمیں ہمارے ملک کی عظمت کا احساس کراتی ہیں -
डा ڈا
سِتار کی گت کا ایک توڑا.
दा داء
بیماری، دُکھ، مرکبات میں جزوِ اوّل کے طور پر مستعمل، مثلاً داء الاسد، داء البولینا وغیرہ
عربی
दा دا
درانتی، ہنسیا، ہنسوا، فصل یا گھاس پھوس کاٹنے کا اوزار
ہندی
baam baam
بردا رفتن صمام حسن
نامعلوم مصنف
دم باز دم ساز
انتصار حسین
باب در باب
سید محبوب احمد
بے در و دیوار
سید احمد شمیم
در بہ در
پروین کمار اشک
حصار بے درو دیوار
یاسمین حمید
مجموعہ
رسالہ بیست باب در معرفت اسطرلاب
خواجہ نصیر الدین
علم نجوم
خواجہ نصیرالدین طوسی
مقالیہ برصغیر ہند میں مطالعہ اقبال 1988-1947: جلد اول، باب دوم
محمد عبدالرزاق فاروقی
فرہنگ ایران دربرخورد با فرہنگ ہائی دیگر
بام و در
علیم عثمانی
غزل
بے تال لمحے
پریم ناتھ در
افسانہ
What Should Then Be Done O, People of The East
دروبام تخیل
فرخ ہمایوں
شاعری
سیری در مطبوعات ایران
مسعود بریزیدین
صحافت
افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہےگھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہے
اٹھ رہا ہے دم بہ دم ڈر کا دھواںکم نہیں ہو پا رہا گھر کا دھواں
ہم وہ درخت ہیں کہ جسے دم بدم اجلارہ ادھر دکھاتی ہے اودھر تبر قضا
فرار خود سے مجھے دم بہ دم جہاں کی طرحمحیط مجھ پہ مری ذات آسماں کی طرح
دم بہ دم گردش دوراں کا گھمایا ہوا شخصایک دن حشر اٹھاتا ہے گرایا ہوا شخص
اتنا گیا ہوں دور میں خود سے کہ دم بدمکرنی پڑے ہے اپنی بھی اب التجا مجھے
مکان سینہ کا پاتا ہوں دم بدم خالینظر بچا کے تو اے دل کدھر کو جاتا ہے
دم بہ دم تغیر کے رنگ ہیں زمانے میںکچھ کمی نہیں آتی درد کے خزانے میں
امرت سے فضائیں دم بدم دھلتی ہیںہر ذرے میں سو روشنیاں گھلتی ہیں
جانے کیا دل پہ دم بدم گزریاک قیامت قدم قدم گزری
ترا جلوہ جو دم بہ دم دیکھتے ہیںزیادہ کے دھوکے میں کم دیکھتے ہیں
زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہےمیری ویران پلکوں پہ دن ڈھلتے ہی کچھ ستارے مگر جگمگاتے رہے
ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
محیط حسن جو اب دم بدم چڑھاؤ پہ ہےچلا ہے گھر سے اکڑتا بڑے ہی تاؤ پہ ہے
دم بہ دم اٹھتی ہیں کس یاد کی لہریں دل میںدرد رہ رہ کے یہ کروٹ سی بدلتا کیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books