aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baa.is-e-iz-o-sharaf"
شکیل ابن شرف
مصنف
علامہ نفیس ابن عوض کرمانی
آل احمد سرور
1911 - 2002
آل رضا رضا
1896 - 1978
شاعر
پروین ام مشتاق
born.1866
اے۔ اے۔ خطیب
مدیر
آلِ عمر
born.1995
اے۔ ای۔ برتلس
ای اے حیدری
اے اے میکڈونل
ای۔ اے۔ موگل
یو۔ اے۔ بی۔ آئی۔ ڈی۔ کلانوری
اے۔ اے۔ رضوی
ناشر
اے۔اے سوداگر
اے۔ ای۔ ہارپر
عہد نو کا نہ سہی گزراں کاباعث عز و شرف ہو جاؤں
روضۂ اقدس پہ آکر کیوں نہ ٹھہریں قافلےباعث تسکین دل ہے آستانہ آپ کا
جہاں میں حوصلۂ عز و نام پیدا کرپس فنا بھی بقائے دوام پیدا کر
جہاں میں حوصلہ عز و نام پیدا کرپس فنا بھی بقائے دوام پیدا کر
بہت نہ حوصلۂ عز و جاہ مجھ سے ہوافقط فراز نگین و نگاہ مجھ سے ہوا
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
ریختہ نے اپنے قارئین کے تجربے سے ایسے قدیم و جدید شاعروں کی کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کو سب سے زیادہ پڑھا گیا جاتا ہے، آپ بھی اس تجربے میں شریک ہوسکتے ہیں۔
سچائی جو باعث ابدی زندگی ہے
نامعلوم مصنف
عیسائیت
بہ نگاہ شرف!
قیوم خضر
خطوط
مہکار
شاعری
بعد از خدا
ابرار کرتپوری
خوشبو کا بدن
مجموعہ
گل تر
دیوان شرف
آغا حجو شرف
دیوان
افغانستان بعد از اسلام
عبدالحی حبیبی
دیوان شرف مجددی
عبدالقادر مجددی
انتخاب
شرح الاسباب والعلامات
آثار شرف
نورالحسین
دریچۂ گل
غزل
طب یونانی
داستان شرف
امداد صابری
اسلامیات
دست كار اہل شرف
حبیب الرحمٰن اعظمی
صاحب عز و شرف ایک نظر ہم پر بھیتیری دنیا میں بہت خار ہوئے جاتے ہیں
زمانے کی گھاتیں کتابوں کی باتوں کو جھٹلا رہی ہیںمیں حیرت کا مارا تماشائے عز و شرف دیکھتا ہوں
دیکھے نہ مجھے کیوں کر از چشم حقارت اووہ سرو جواں یارو من فاختۂ پیرم
آ کہ حاصل ہو ناز عز و شرفآ تری رہ گزار ہیں ہم لوگ
کاش خوابوں ہی میں بخت خفتہ میرا جاگ اٹھےاے زہے عز و شرف جلوہ مرے سرکار کا
نہ پھر جہاں میں بلندیٔ عز و شاں کے لئےیہ کام چھوڑ سیہ بخت آسماں کے لئے
اللہ اللہ عز و جاہ ذاکردربار حسینی میں ہے راہ ذاکر
نیا تھا درد کے رشتوں سے ناطہنئی کونپل تھی آب و گل نئی تھی
خود نگہداری کی پاداش میں رسوا ہوئے ہمحاصل اس کام میں تو عز و شرف کوئی نہیں
کچھ ایسی بات ہو جو موجب تسکین خاطر ہووہ کیا اقرار ہے جو باعث آزار ہو جائے
آزمائش سے سوا تھا شہر گریہ سے گزرناکھنڈروں میں دم بخود سب صاحب عز و شرف تھے
اے شرفؔ سچ ہے مصرعۂ مصباحؔہم تو اپنی نظر میں کچھ بھی نہیں
انتہائے معرفت سے اے شرفؔمیں نے جو دیکھا جو سمجھا کچھ نہ تھا
پھر کہا یہ دے کے مجھ کو ایک موٹی سی رقمگر قبول افتد زہے عز و شرف اے محترم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books