aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "balcony"
وہ صبح کا احساس ہو یا میری کشش ہوڈوبا ہوا خورشید لب بام تو آیا
چاند ہے اور آسمان ہے صافرہیے بالائے بام آٹھ سے پانچ
زندگی ڈال رہی تھی جو ستاروں پہ کمنداب تماشائے لب بام ہوئی جاتی ہے
بچوں کا کتب خانہ، حیدرآباد
ناشر
بچوں کا بکڈپو، دہلی
فرانسس بیکن
مصنف
ایمرسن بیکن
بچوں کا ادبی ٹرسٹ، نئی دہلی
بچوں کا کتب خانہ، نئی دہلی
بچوں کی دنیا، ہریانہ
اب بھی اس سے تتلی ملنے آتی ہےبالکنی میں ٹوٹا گملا رہنے دے
سڑک کنارے اسٹیشنوں پرپرانے کوٹھے کی بالکونی میں
بالکونی سے جھانکتا ہوا چاندمہکتی ہوئی رات کی رانی
پرندہ بالکونی کی کگر سےاڑا مثال پیامی
دبے پاؤں چلتا ہوابالکنی سے
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
balcony balcony
شَہ نَشِیْن
دھوپ کی بالکونی سے
ناصر راہی
نظم
بالکونی
کرشن چندر
علامہ اقبال: بچوں کے لئے نظمیں
فضل تابش
مسکراہٹیں
صبوحی اسلم
تفریحات
اردو میں بچوں کا ادب
خوشحال زیدی
ادب اطفال
بچوں کے فیض احمد فیض
طہٰ نسیم
شخصیت
بچوں کی کہانیاں
عبدالواحد سندھی
افسانہ
طفلی ترانے
سید شکیل دسنوی
بچوں کے لیے یک بابی ڈرامے
بانو سرتاج
ڈراما
بچوں کے اقبال
اطہر پرویز
بچوں کی دنیا
تلوک چند محروم
بچوں کے لئے اردو کا آسان قاعدہ
اظہار احمد تھانوی
سیکھنے کے وسائل/ قواعد
بچوں کےحکیم محمد سعید
حکیم محمد سعید دہلوی
بچوں کی لغت
خلیق احمد صدیقی
بادشاہوں کی کہانیاں
نامعلوم مصنف
کچھ ادھورے خواب ایک بالکنیاور دو تین گملے ہیں
یوں لگتا ہے جیسےبالکنی میں بیٹھا
بالکنی پر آؤ میری پلکوں کیدیکھو کتنا گہرا نیلا سمندر ہے
خوب فائرنگ ہو رہی ہووہ بلا ارادہ بالکنی میں جا کے کھڑا ہو جاتا ہے
جھنجھنا اٹھی تھی یوں بالکنی کی ریلنگجیسے بج اٹھیں کسی ساز کے تار
دل کے دفتر میں وہ منظر آج بھی محفوظ ہےگرم کافی بالکونی سردیاں بارش کی شام
بالکنی میں جھانکاوہ اب بھی نہیں آیا تھا
بکھرے بالوں کو کس کے جوڑے میں باندھ لے گیلباس کی سلوٹوں کو جھٹکے گی
بالکونی وہ کئی دن سے ہے ویراں یارواس گلی میں کوئی ہنگامہ اٹھایا جائے
’’چلو۔۔۔ چلو چلو۔۔۔ راستہ دو۔۔۔ ایک طرف۔۔۔ ہاں۔۔۔‘‘...
چائے کے دو کپ بالکنی اور فیضؔ کی نظمیںتم بن بھی یہ معمول ہمارا جاری ہے
بالکنی سے باہر جھانکاآئینے میں صورت دیکھی
اپنی بالکنی میں بالکنی پرسوکھنے کے لیے ڈال دیے تھے
بالکنی میں رکھے پنجرے کے پاس آ کرمری مینا سے سرگوشی کے لہجے میں
ہیں کچھ بے چینیاں جو بالکنی میں ہی کھڑی ہیںعجب سی اک ردم میں سانس بھرتی چھوڑتی سی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books