aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bazm-e-azaa-e-dost"
بزم صدف انٹرنیشنل
عطیہ کار
بزم اقبال، لاہور
مدیر
بزم آئینہ پبلیکیشنز، کرنول
ناشر
بزم خواتین، حیدرآباد
اراکین بزم غالب
مصنف
بزم شعرا، لکھنؤ
بزم آستانہ شہ میریہ، کڑیہ
بزم جگر، بشمبھرپور
بزم اردو ادب، میسور
دفتر بزم شعراء، اورنگ آباد
بزم قانون جامعہ عثمانیہ
بزم احساس ادب، فتح پور
بزم ساز و ادب، دہلی
اراکین بزم ادب، دہلی
بزم عاصم
بزم عزائے دوست میں غم نہ سہی طرب سہیہنس نہ سکو جو کھل کے تم تو خندۂ زیر لب سہی
عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گےمرے حریف لہو کے دیئے جلائیں گے
بزم عزا بنی ہوئی ہے بزم ذوق و شوقدور نشاط موجب دوران سر ہے آج
دل مورد ایزا و بلا ہوتا ہےپاداش عمل میں سب بجا ہوتا ہے
اے پرندو آن کر بیٹھو سر شاخ عزاہم درختوں کو شعور مرثیہ خوانی بھی ہے
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
شاعری ،یا یہ کہاجائے کہ اچھا تخلیقی ادب ہم کو ہمارے عام تجربات اور تصورات سے الگ ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے وہ ہمیں ان منطقوں سے آگاہ کرتا ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی سے الگ ہوتے ہیں ۔ کیا آپ دوست اور دوستی کے بارے ان باتوں سے واقف ہیں جن کو یہ شاعری موضوع بناتی ہے ؟ دوست ، اس کی فطرت اس کے جذبات اور ارادوں کا یہ شعری بیانہ آپ کیلئے حیرانی کا باعث ہوگا ۔ اسے پڑھئے اور اپنے آس پاس پھیلے ہوئے دوستوں کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کیجئے ۔
बज़्म-ए-'अज़ा-ए-दोस्तبَزْمِ عَزائے دوسْت
gathering for the friend's condolence
بزم عزا
سید شاہ مرہون الاشاد القادری
مرثیہ
اوراق منشورۂ اعضاء انجمن
نامعلوم مصنف
تشریح وافعال اعضاء انسانی بہ اصول طب یونانی
حکیم سید غلام حسین
سائنس
طب جدید
جراحت
رہبر مجالس عزاء
صمصام علی گوہر
بزم خیر از زید در جواب بزم جمشید
شاہ ابو الحسن زید فاروقی
نقشبندیہ
تسبیح عزا
عشرت رضوی لکھنوی
بزم غم دلگیر
سید انتظام الدین شاہ جمالی
پیام دوست
قیوم اثر
بزم مشاعرہ اورنگ آباد
نا معلوم ایڈیٹر
رپورتاژ
بزم فروغ اردو
محمود نظامی
بزم ادب
کنہیا لال آزردہ
بزم شبلی
شباب الدین
بزم سخن
جگشیر پرشاد دخلش ندروی
ابھی تو عذر ملاقات ہی تک آئے ہیںابھی تو دیکھیے ہوں گی قباحتیں کیا کیا
ادھر نقاب مراتب ادھر حجاب انایہ فاصلے ہیں ملاقات ہو تو کیسے ہو
مری شکست انا کا خیال کر ظالمبھرم کچھ اے دل بے اختیار رہنے دے
خدا محفوظ رکھے دوستوں سے بھی کہ دیکھے ہیںلباس دوستی میں کتنے مار آستیں میں نے
میں بزمؔ سوز تغافل سے جل بجھا لیکناسے نہ زحمت فکر و خیال دی میں نے
بزمؔ مہلت نہیں دیتے مجھے افکار جہاںفرصت کثرت اشعار کہاں سے لاؤں
زمانہ اتنا بھی نا قدر و ناشناس نہ تھاجو بزمؔ کوئی بڑا کام کر گئے ہوتے
وہ جاں نثاریٔ باہم وہ پاس عہد وفاوہ لوگ بزمؔ کہاں کھو گئے خدا جانے
گریز بزمؔ ضروری ہے التفات میں بھیہو رسم و راہ تو حد سے کبھی بڑھوں بھی نہیں
وہ عمر بزمؔ کہ جس کا سراغ ہی نہ ملااس عمر رفتہ کی اک یادگار دل ہی تو ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books