aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-kaari-e-ummiid"
یو۔ اے۔ بی۔ آئی۔ ڈی۔ کلانوری
مصنف
نظر پرستی و بے کاری خود آرائیرقیب آئنہ ہے حیرت تماشائی
ابھی کہ فرصت بے کارئ جنوں ہے بہتہمارا حال بھی پہلے سے اب زبوں ہے بہت
سمجھنے سوچنے سے ہی نہیں ملتی مجھے فرصتمری مصروفیت میں شغل بے کاری بھی شامل ہے
جہاں میں بے ہنر لوگوں کو کوئی کیسے سمجھائےکہ یہ دنیا ابھی تک کار بے کاری سے قائم ہے
خانۂ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہےچشم تر سے آخری آنسو جدا ہونے کو ہے
امیدوں کی ایک دھند ہے اورکچھ ایسا ہے جوصاف دکھتا بھی نہیں اورچھپتا بھی نہیں ۔ اسے کے سہارے زندگی چل رہی ہے ۔ سب کچھ ہاتھ سے چلے جانے کے بعد اگرکچھ بچتا ہے تووہ امید ہی ہے ۔ شاعری کے عاشق کے پاس بھی بس یہی ایک اثاثہ ہے ، وہ اسی کے سہارے زندہ ہے ۔ جو طویل رات وہ ہجر کے دکھوں میں گزاررہا ہے اس کی بھی اسے سحرنظرآتی ہے ۔ ہم یہ انتخاب اس لئے بھی پیش کررہے ہیں کہ یہ زندگی کے مشکل ترین وقتوں میں حوصلہ مندی کا استعارہ ہے ۔
قرض محبت
تذكرة الشعراء
مصطفیٰ خاں شیفتہ
داستان امیر حمزہ با تصویر
نامعلوم مصنف
داستان
بارہ کھری بخلاصہ رامائن
چمن بینظیر
قاضی ابراہیم
معرکۂ بے چہرہ لمحے
سید احمد قادری
بہ رنگ دگر
سید جعفر امیر
مثنوی امید و بیم
مرزا محمد ہادی مرزا
مثنوی
امین کا دم واپسیں
راشدالخیری
ناول
منخبات صبغت
عابد حسین
تحفہ محمد امین
محمد امین قادری
اسلامیات
کیف و کرب
بی ایس جین جوہر
شاعری
غنیٰ منیٰ
ابو منصور حسن قمری
طب
منظوم سوانح امین شریعت
اشرف رضا قادری
شکست عظیم با عدائے قرآن کریم
نخل امید و آرزو بے برگ و بار ہےناکامئ حیات پہ دل شرمسار ہے
بس ایک روز کھلی مجھ پہ میری بے کاریاور اس کے بعد میں مصروف کار ایسا ہوا
بے کاری میں کام آ جاتیہر خواب ادھورا رہ جاتا
بے کاری ریاکاری جہاں داری و جبروتان چار عناصر کا مرکب ہے مسلمان
اہل بصیرت سوچ سے عاری کالے دھندے گورے لوگہم نے بے کاری کے دنوں میں جانے کیا کیا سوچا ہے
گل نے کچھ اس ادا سے جلایا چراغ حسنبے چاری عندلیب کو پروانہ کر دیا
بے سبب اپنی نگاہوں سے گرا جاتا ہوںاس فسوں کاری الزام پہ رونا آیا
دشت امید میں ہر چند وہ تنہا تھا مگربے تحاشہ اسے آواز لگاتے دیکھا
کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورتبے خبر گزری، پریشانیٔ امید لیے
بغیر مرکز امید و بے سکون دروںمیں اک خلا ہوں جو ثابت بنے نہ سیارا
وہ بے حسی تھی خشک ہوا سبزۂ امیدبرسے جو صبح و شام وہ چاہت نہیں ملی
سن کر یہ ان کا روئے سخن فق پڑا رہاپر پھڑپھڑا کے رہ گئیں بے چاری شاعرات
نخل امید میں نہ پھول نہ پھلشجر بے بہار سا ہے کچھ
سب نے ہنگامۂ محفل کے مزے لوٹے ہیںرہ گئی شمع بے چاری سر محفل تنہا
اس کے سائے میں دم تو لیتا ہوںشاخ امید بے ثمر ہی سہی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books