aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-khud-e-ishq"
اشک بی اے
مصنف
بے خود عشق سے پھر ہوش میں آیا نہ گیاسر جو سجدہ میں جھکایا تو اٹھایا نہ گیا
ہائے اس بے خود شباب کا رنگلال انگارہ سا شراب کا رنگ
ملتے ہیں کہاں خود کو ہم بے خود غم تنہاہم سے بھی ملا دینا مل جائیں جو ہم تنہا
بے خود شوق ہوں آتا ہے خدا یاد مجھےراستہ بھول کے بیٹھا ہوں صنم خانے کا
وہ بیخود شباب وہ سیمیں بدن کہاںمیں غم نصیب کشتۂ رنج و محن کہاں
میر 18ویں صدی کے جدید شاعر ہیں ۔اردو زبان کی تشکیل و تعمیر میں بھی میر کی خدمات بیش بہا ہیں ۔خدائے سخن میر کے لقب سے معروف اس شاعر نے اپنے بارے میں کہا تھا میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی۔ ریختہ ان کے 20 معروف و مقبول ،پسندیدہ اور مؤقراشعار کا مجموعہ پیش کر رہاہے ۔ ان اشعار کا انتخاب بہت سہل نہیں تھا ۔ ہم جانتے ہیں کہ اب بھی میر کے کئی مقبول اشعار اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔اس سلسلے میں آپ کی رائے کا خیر مقدم ہے ۔اگر ہماری مجلس مشاورت آپ کے پسندیدہ شعر کو اتفاق رائے سے پسند کرتی ہے تو ہم اس کو نئی فہرست میں شامل کریں گے ۔ہمیں قوی امید ہے کہ آپ کو ہماری یہ کوشش پسند آئی ہوگی اور آپ اس فہرست کو سنوارنے اور آراستہ کرنے میں معاونت فرمائیں گے۔
یوں تو بظاہر اپنے آپ کو تکلیف پہنچانا اور اذیت میں مبتلا کرنا ایک نہ سمجھ میں آنے والا غیر فطری عمل ہے ، لیکن ایسا ہوتا ہے اور ایسے لمحے آتے ہیں جب خود اذیتی ہی سکون کا باعث بنتی ہے ۔ لیکن ایسا کیوں ؟ اس سوال کا جواب آپ کو شاعری میں ہی مل سکتا ہے ۔ خود اذیتی کو موضوع بنانے والے اشعار کا ایک انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں ۔
बे-ख़ुद-ए-'इश्क़ بے خُودِ عِشْق
intoxicated by love
बू-ए-ख़ून-ए-'आशिक़ بُوئے خُونِ عاشِق
عاشق کے خون کی مہک
عربی, فارسی
बे-ख़ुदी-ए-'इश्क़ بے خودیٔ عشق
the state of being beside one's self in love
دیوان بےخود
ایاز فقیر سہروردی
دیوان
درشہوار بیخود
بیخود دہلوی
اسرار خودی و رموز بیخودی
علامہ اقبال
عکس رموز بے خودی
خوننابۂ عشق
آرتھر کانن ڈائل
ناول
داستان اشک و خوں
خواجہ غلام السیدین
داستان
نمود عشق
بی آر کشیپ
رموز عشق
شاعری
مثنوی لطف موسوم بہ نیرنگ عشق
ثمینہ شوکت
باغ عاشق
پنڈت کنہیا لال عاشق
راشد بقلم خود
سعادت سعید
تنقید
تحفۂ عشق معروف بہ حیات الحسن
محمد غلام غوث
سوانح حیات
زلیخا بزبان اردو
ملا عبدالرحمان جامی
ثمرہ نیک و بدسلوک
بی امیر جان
تاریخی
افسانہ عاشق دلگیر
منشی عبدالغنی صبر
قصہ / داستان
بے خود و ہشیار کی باتیں کریںسرمد سرشار کی باتیں کریں
تائب نہیں ہوں بے خود و سرشار بھی نہیںجو اس طرح پیے وہ گنہ گار بھی نہیں
میں ایک ساعت بے خود میں چھو گیا تھا جسےپھر اس کو لفظ تک آتے ہوئے زمانے لگے
مست و بے خود تیرے مے خانے کا بام و در بنےساقیا گر تیری چشم مست کا ساغر بنے
منزل عشق سے گزر بے خود و مست و بے خبرچوٹ لگے تو اف نہ کر دل کو دبا کے بھول جا
وفور بے خودیٔ عشق کے رموز نہ پوچھکئی دفعہ تو ترا نام بھی نہ یاد آیا
کہاں تک نہ بے ہوش و بے خود کرے گیمئے وصل ہے کوئی شربت نہیں ہے
عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگبے خود سوز و ساز ہیں ہم لوگ
ہشیار ہو اے بے خود و سرشار محبتاظہار محبت! ارے اظہار محبت
عالم رنگ و نغمہ میں کیف بہت سہی مگربے خود سیر کائنات اپنی طرف بھی اک نظر
اک بے خود سرور دل و جاں نہیں رہااک عاشق صداقت پنہاں چلا گیا
بزم مے بے خود و بے تاب نہ کیوں ہو ساقیموج بادہ ہے کہ درد اٹھتا ہے پیمانوں میں
بزم کے پروانے ہم بے خود و مستانے ہمآپ ہیں پروانہ ساز شاہ عرب شاہ دیں
ان گنوں پر نجات کی امیدبیخودؔ رو سیاہ کیا کہنا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books