aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-lams"
بولیس دمشق السری
مصنف
اترا کے چل شعور کی ٹھوکر بھی کھا کے دیکھبے لمس آگہی کا وہ پتھر ہے سامنے
بھیڑ وہ تھی تری چوکھٹ پہ طلب گاروں کیکوئی بے لمس رہا تیرا بلایا بھی ہوا
کیا اس میں ہے موج آب جیسابے لمس ہے وہ سراب جیسا
بے لوث محبت کا صلہ ڈھونڈھ رہا ہوںناداں ہوں یہ اس شہر میں کیا ڈھونڈھ رہا ہوں
بے لوث ہو جو ایسا بشر ڈھونڈ رہے ہیںگویا کہ وہ صحرا میں شجر ڈھونڈ رہے ہیں
عشق کی کہانی میں شکوہ شکایتوں کی اپنی ایک جگہ اور اپنا ایک لطف ہے ۔ اس موقع پر عاشق کاکمال یہ ہوتا ہے کہ وہ معشوق کے ظلم وجفا اور اس کی بے اعتنائی کا شکوہ اس طور پر کرتا ہے کہ معشوق مدعا بھی پا جائے اور عاشق بدنام بھی نہ ہو ۔ عشق کی کہانی کا یہ دلچسپ حصہ ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے ۔
شمع رات بھر روشی لٹانے کیلئے جلتی رہتی ہے ، سب اس سے فیض اٹھاتے ہیں لیکن اس کے اپنے دکھ اور کرب کو کوئ نہیں سمجھتا ۔ کس طرح سے سیاہ کالی رات اس کے اوپر گزرتی ہے اسے کوئی نہیں جانتا ۔ تخلیق کاروں نے روشنی کے پیچھے کی ان تمام ان کہی باتوں کو زبان دی ہے ۔ خیال رہے کہ شاعری میں شمع اور پروانہ اپنے لفظی معنی اور مادی شکلوں سے بہت آگے نکل کر زندگی کی متنوع صورتوں کی علامت کے طور پر مستعمل ہیں ۔
'आलम-ब-'आलम عَالَمْ بَہ عَالَمْ
world after world
'आलम-ए-रंग-ओ-बू عالَم رَنْگ و بُو
(مراد) دنیا، موجودات عالم
बे-'उलमा بے عُلَما
without the learned ones
ब-'आलम-ए-ज़र्रात بَہ عَالَمِ ذَرَّاتْ
in the world of particles
لمس رنگ و بو
سیف الرحمن عباد غازی پوری
مجموعہ
اردو کے بے لوث سپاہی
عبدالکریم سالار
تذکرہ
بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوںانجام تو ظاہر ہے مگر ڈھونڈ رہا ہوں
بے لوث وفاؤں کے دھنی تم ہو مگر ہاںدستک پہ نہ در کھولو تو قسمت نہیں رہتی
یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلقاور معراج کسے کہتے ہیں انسانوں کی
بے لوث ہوں رشتے تو بھلائے نہیں جاتےفانوس سر شام بجھائے نہیں جاتے
اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئےعمر کے اس دور میں اب ذمہ داری چاہیئے
بے لوث و روادار تمہاری ہی طرح ہودشمن بھی مرے یار تمہاری ہی طرح ہو
یہ لوگ لمس کے میلے سے بے خبر چپ چاپگھروں کی سمت رواں ہیں
ذرا سن بے نیاز لمس سن لےمیں تجھ کو چھو کے خود کو بھولتا ہوں
سپید پھول رات کے سیاہ پانیوں سےآرزو کی آبشار سے
مزہ لمس کا بے زبانی میں تھاعجب ذائقہ خوش گمانی میں تھا
لمس تشنہ لبی سے گزری ہےرات کس جاں کنی سے گزری ہے
ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہےتو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے
لمس دشت بلا کی ہی سوغات ہےمیرے اطراف میں بے حسی ہے کہاں
دیوار و در میں سمٹا اک لمس کانپتا ہےبھولے سے کوئی دستک دے کر چلا گیا ہے
تمہارے چہرے پرصرف دو آنکھیں میری آشنا ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books