aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bijnor"
نور بجنوری
1924 - 2001
شاعر
شیون بجنوری
born.1932
غم بجنوری
مصنف
چندر پرکاش جوہر بجنوری
1923 - 1995
وویک بجنوری
born.1991
صوفی زمزم بجنوری
عبدالرحمٰن بجنوری
1885 - 1918
منّان بجنوری
born.1960
اسد بجنوری علیگ
born.1993
سیف بجنوری
وقار بجنوری
born.1906
شوق بجنوری
محمد رضا رئیس بجنور
مدیر
قاضی اسٹریٹ، بجنور
ناشر
مطبع الخلیل پریس بجنور
اسی دنیا کے اسی دور کے ہیںہم تو دلی میں بھی بجنور کے ہیں
مجھ کو دشوار تھا بجنور سے دلی کا سفرسوچ پھر کیسے کیا میں نے سعودی کا سفر
اس خبر پر تو نہیں مجھ کو تعجب اے فگارایک غنڈا حلقۂ بجنور میں پکڑا گیا
ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں
کس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہے
سرکشی ضلع بجنور
سر سید احمد خاں
ہندوستانی تاریخ
ضلع بجنور کے جواہر
فرقان احمد صدیقی
تاریخ ادب ضلع بجنور
شکیل احمد خاں
تاریخ ادب
اکتوبر : شمارہ نمبر-038
شبیر بیگ بریلوی
غنچہ
انتخاب مدینہ بجنور
سید محمد عقیل رضوی
تاریخ
دبستان بجنور
شیخ نگینوی
مقالات/مضامین
ستمبر : شمارہ نمبر-033
شمارہ نمبر-007
رفیق احمد
حاذق، بجنور
شمارہ نمبر-001
ابواللیث ندوی اصلاحی
Jan 1937فاران، بجنور
شمارہ نمبر-006
Jun 1937فاران، بجنور
شمارہ نمبر-004
Apr 1937فاران، بجنور
شمارہ نمبر۔007،008,009
سراج الدین ندوی
Mar, Apr, May 2010تفہیمات، بجنور
نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنابہت مدت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں
خود بین و خود شناس ملا خود نما ملاانساں کے بھیس میں مجھے اکثر خدا ملا
گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!
مشکل ہے ہر اک بندۂ حق بین و حق اندیشخاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند
میں نے الفاظ تو بیجوں کی طرح چھانٹ دیئےایسا میٹھا ترا انداز تھا فرمانے کا
سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کوہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو
یہ نرم نرم سے ہاتھوں کا گرم گرم سا لمسگداز جسم پہ بلور کی تہوں کا سماں
جب نگاہوں کے اشارات بدل جاتے ہیںخود بہ خود پیار کے جذبات بدل جاتے ہیں
گلدستۂ رنگیں کف ساحل پہ دھرا ہےبلور کا ساغر ہے کہ صہبا سے بھرا ہے
فریب بے خودی دیتے ہوئے بلور کے ساغرمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
یہی جہاں ہے جہنم یہی جہاں فردوسبتاؤ عالم بالا کے سیربینوں کو
بلور کی چمکیں ہیں نہ الماس کی جھمکیںاس گورے سے سینے کی صفا اور ہی کچھ ہے
ساقی سے کہہ کہ ہے شب مہتاب جلوہ گردے بسمہ پوش ہو کے تو ساغر بلور کا
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میںاک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books