aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dafiina"
پیوش دہیہ
عطیہ کار
دکھنی ساہتیہ، پرکاشن
ناشر
عیش دنیا کی جستجو مت کریہ دفینہ ملا نہیں کرتا
تاراج کاوش غم ہجراں ہوا اسدؔسینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
کیا خبر کوئی دفینہ مل جائےکوئی دیوار گرا کر دیکھو
ایک مدفون دفینہ انہیں اطراف میں تھاخاک اڑتی ہے یہاں اور وہ گوہر گم ہے
کہاں گئے وہ خدایان درہم و دینارکہ اک دفینۂ دشت بلا کو جاتا ہوں
کسی بھی طالب علم کی زندگی میں استاد کا ایک اہم مقام ہوتا ہے۔ جہاں ماں باپ بچوں کی جسمانی نشو و نما میں حصہ لیتے ہیں وہیں استاد ذہنی ترقی میں۔ آج کا دن استاد کی انہیں عنایتوں کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا ہے۔ اس عالمی یوم استاد پر ہم نے آپ کے لیے کچھ اچھے شعروں کا ایک انتخاب کیا ہے انہیں پڑھیے اور اپنے استادوں کے ساتھ شئیر کیجیے۔
استاد کو موضوع بنانے والے یہ اشعار استاد کی اہمیت اور شاگرد و استاد کے درمیان کے رشتوں کی نوعیت کو واضح کرتے ہیں یہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ نہ صرف کچھ شاگردوں کی تربیت بلکہ معاشرتی اور قومی تعمیر میں استاد کا کیا رول ہوتا ہے ۔ اس شاعری کے اور بھی کئی پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
दफ़ीनाدَفِینَہ
عربی
گڑا یا چُھپا ہوا خزانہ، دبا ہوا مال
आईनाآئِینَہ
فارسی
قَلْعی کیا ہوا شیشہ جس کی پشت پر مسالا لگا ہو اور جس میں چیزوں کا عکس نظر آئے، من٘ھ دیکھنے کا شیشہ، درپن، مرآت
सफ़ीनाسَفِینَہ
کشتی، کشتیاں، ناؤ، جہاز
हसीनाحَسِینَہ
خوبصورت عورت، حسین عورت
دفینہ
سید یوسف صفی
دفینۂ آنند
بابا گلاب چند
دفینہ پہاڑ کا
معراج احمد معراج
غزل
دفینہ سعادت
سید سعادت علی
قصیدہ
قانون دفینہ
نامعلوم مصنف
قانون / آئین
قوعد دفینہ
مطبع نظام، حیدرآباد
دکھنی (قدیم اردو) کے چند تحقیقی مضامین
نصیر الدین ہاشمی
آتم دکشنا
منشی تیرتھ رام فیروز پوری
افسانہ / کہانی
رسائل کے دفینوں سے اردو ادب کی بازیافت
عابد رضا بیدار
تاریخ ادب
نجات دہندہ
رینو بہل
ناول
ردالقضاء من الدعاء فی اعمال دفع الوباء
سید اسماعیل حسن مارہروی
اسلامیات
دکھنی آرٹ
غلام یزدانی
الاجابتۃ الکافیہ فی رد دفاع معاویہ
مہر حسین بخاری
دافع الشبہات
محمد بن عبدالوھاب
اپنے اک خواب کو دفنا کے ابھی آیا ہوں
آدم ابو والا
مجموعہ
جھانک کر آنکھوں میں سینے میں اتر کر دیکھیںنقشۂ دل سے کوئی راز دفینہ سیکھیں
سفید پاس فقط سیم کا دفینہ ہےہر ایک دل میں ہے رستم و زال ہولی میں
بہت قریب سے گزرے مگر خبر نہ ہوئیکہ اجڑے شہر کی دیوار میں دفینہ تھا
دفن ہوں ساتھ ترے میرے گہر ہائے سخنخاک میں مل کے نمایاں یہ دفینہ ہو جائے
تلخ یادوں کا دفینہ ہے یہ معصوم سا دلتلخ یادوں سے ہمیں کوئی شکایت بھی نہیں
دفینہ جان ان آنکھوں کو ہجر میں اس کےجو ان میں اشک ہیں پنہاں نوادرات سمجھ
ٹوٹا ہوا دل الفت بھرا تھاڈھا کر عمارت پایا دفینہ
ذہن میں ہوں میں خیالوں کا دفینہ شاہدؔمنتظر ہوں کوئی الفاظ میں پا لے مجھ کو
ترا آسماں ناوکوں کا خزینہ حیات آفرینا حیات آفریناہماری زمیں لعل و گل کا دفینہ حیات آفرینا حیات آفرینا
وہ عمارت سی گری تھی جو مرے سینے میںاس کی بنیاد سے کہتے ہیں دفینہ نکلا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books