aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "decline"
مرے فکر و فن تری انجمن نہ عروج تھا نہ زوال ہےمرے لب پہ تیرا ہی نام تھا مرے لب پہ تیرا ہی نام ہے
چڑھتا سورج بتا رہا ہے مجھےبس یہیں سے زوال ہے میرا
میں چاہتا ہوں محبت پہ اب کی بار آئےزوال ایسا کہ جس کو کبھی زوال نہ ہو
مارٹن گریگر ڈیلن
مصنف
ڈیوڈ جیمس ڈیلن
میں جینے کی تمنا لے کے اٹھتی ہوںمگر جب دن گزرتا ہے
پھر اپنی اس پریم کہانی پر آیا ڈک لائناب وہ مجھ کو جن کہتی ہے اور میں اس کو ڈائن
نہ یہ کہ حسن تام ہونہ دیکھنے میں عام سی
اور کیا دیکھنے کو باقی ہےآپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
کسی بھی طالب علم کی زندگی میں استاد کا ایک اہم مقام ہوتا ہے۔ جہاں ماں باپ بچوں کی جسمانی نشو و نما میں حصہ لیتے ہیں وہیں استاد ذہنی ترقی میں۔ آج کا دن استاد کی انہیں عنایتوں کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا ہے۔ اس عالمی یوم استاد پر ہم نے آپ کے لیے کچھ اچھے شعروں کا ایک انتخاب کیا ہے انہیں پڑھیے اور اپنے استادوں کے ساتھ شئیر کیجیے۔
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
استاد کو موضوع بنانے والے یہ اشعار استاد کی اہمیت اور شاگرد و استاد کے درمیان کے رشتوں کی نوعیت کو واضح کرتے ہیں یہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ نہ صرف کچھ شاگردوں کی تربیت بلکہ معاشرتی اور قومی تعمیر میں استاد کا کیا رول ہوتا ہے ۔ اس شاعری کے اور بھی کئی پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
declinedecline
reclinerecline
جُھکْنا
necklineneckline
قمیض کا گلا
definedefine
اٹلی ہے دیکھنے کی چیز
سلمیٰ اعوان
سفر نامہ
ڈسپلن کی تعلیم و تربیت
محمد اکرام خاں
دیگر
خواب دیکھنے والو
نسیم نکہت
مجموعہ
اب جن کے دیکھنے کو
بیگم انیس قدوائی
خاکے/ قلمی چہرے
سووئٹ روس کی حقیقت
عالمی تاریخ
خلافت محمدیہ
ابوالوفا ثناء اللہ
اسلامیات
ہے دیکھنے کی چیز
سرفراز شاہد
غزل
اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباددیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں
راہ دور عشق میں روتا ہے کیاآگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھےتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتاررکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیںہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپناجب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانا ہے
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیےکہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
دیکھیے ابر کی طرح اب کےمیری چشم پر آب کی سی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books