aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "faisal"
فیصل امتیاز خان
born.2001
شاعر
فیصل عجمی
born.1951
سراج فیصل خان
born.1991
فیصل فہمی
فیصل عظیم
born.1974
عزیز فیصل
فیصل صاحب
born.1976
فضا ابن فیضی
1923 - 2009
فیصل ندیم فیصل
born.1983
فیصل ہاشمی
دھیریندر سنگھ فیاض
born.1987
روبینہ فیصل
مصنف
فیصل محمود
فیضان ہاشمی
born.1986
فیصل ملک
born.1982
فیصلؔ وہ سارے لوگ تھے بہرے اسی لیےخاموش رہ کے شور مچانا پڑا مجھے
کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیںٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے
میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیامعاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا
آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میںلیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا
ملنے جانا ہے تجھ کو کل فیصلؔآج کی شام مر بھی سکتے ہو
مسکراہٹ کو ہم انسانی چہرے کی ایک عام سی حرکت سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن ہمارے منتخب کردہ ان اشعار میں دیکھئے کہ چہرے کا یہ ذرا سا بناؤ کس قدر معنی خیزی لئے ہوئے ہے ۔ عشق وعاشقی کے بیانیے میں اس کی کتنی جہتیں ہیں اور کتنے رنگ ہیں ۔ معشوق مسکراتا ہے تو عاشق اس سے کن کن معنی تک پہنچتا ہے ۔ شاعری کا یہ انتخاب ایک حیرت کدے سے کم نہیں اس میں داخل ہویئے اور لطف لیجئے ۔
فساد پر یہ شاعری فساد کی بھیانک صورتوں اور ان کے نتیجے میں برپا ہونے والی انسانی تباہی کا تخلیقی بیان ہے ۔ آج کے عہد میں بیشتر انسانی آبادیاں فساد کی کسی نہ کسی شکل کی زد میں ہیں اور جانی ، مالی ، تہذیبی اور ثقافتی تباہیوں کو ایک سلسلہ جاری ہے ۔ ایسے دور میں اگر یہ شاعری ہمارے اندر پیدا ہونے والے برے جذبوں کو شانت کردے تو بڑی بات ہوگی ۔
कैसा کیسا
کس قسم کا ، کس طرح کا .
जैसा جَیسا
جو کچھ، جس طرح، جس قسم کا
سنسکرت
फ़ैसल فَیصَل
فیصلہ، تصفیہ
عربی
फ़ैसला فَیصْلَہ
کسی قضیے، مقدمے یا جھگڑے وغیرہ کے طے کرنے کا عمل، تصفیہ، چکوتا
حالی کی سوانح نگاری : حیات جاوید کی روشنی میں
ملک راشد فیصل
تحقیق
کشتہ جات
شاہ نور فیصل
تحریک آزادی میں علماء کا کردار
فیصل احمد بھٹکلی ندوی
ہندوستانی تاریخ
کسی حیران ساعت میں
مجموعہ
ایران کا اسلامی دستور: ایک جائزہ
جسٹس شیخ فیصل
قانون / آئین
سفرنامہ شام مشاہدات وتاثرات
علوم و فنون عربی
مطالعۂ اصناف ادب
شاہ فیصل
زبان و ادب
روٹی کھاتی مورتیاں
تنقید
ابن صفی: شخصیت اور فن
محمد فیصل
قول فیصل
اختر علی اختر
نظم
دکن میں اردو مثنوی سراج اورنگ آبادی تک
مثنوی تنقید
میری آنکھوں سے دیکھو
علی گڑہ میں اردو صحافت عہد بہ عہد
اسعد فیصل فاروقی
فریب تمام
فیصل فاران
ہمیں رنجش نہیں دریا سے کوئیسلامت گر رہے صحرا ہمارا
تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوستکتنی تیزی سے بدلتا ہے زمانہ مرے دوست
روز و شب مار دیا جاتا ہے فیصلؔ ہم کوچین سے جینے نہیں دیتے زمانے والے
ہے کامیابیٔ مرداں میں ہاتھ عورت کامگر تو ایک ہی عورت پہ انحصار نہ کر
اب وہ تتلی ہے نہ وہ عمر تعاقب والیمیں نہ کہتا تھا بہت دور نہ جانا مرے دوست
مرتے دم تک قید رہے گا تو فیصلؔقبر میں زنجیروں کو کھولا جائے گا
ترے احساس میں ڈوبا ہوا میںکبھی صحرا کبھی دریا ہوا میں
کبھی دیکھا ہی نہیں اس نے پریشاں مجھ کومیں کہ رہتا ہوں سدا اپنی نگہبانی میں
فیصلؔ ہے خوف خود مجھے ایسے پتا چلادیکھا جو آئینہ تو میں خود سے ہی ڈر گیا
شاید اگلی اک کوشش تقدیر بدل دےزہر تو جب جی چاہے کھایا جا سکتا ہے
دشت جیسی اجاڑ ہیں آنکھیںان دریچوں سے خواب کیا جھانکیں
مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیاسورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا
اس کو جانے دے اگر جاتا ہےزہر کم ہو تو اتر جاتا ہے
چھوڑ جاتا ہے تذبذب میں وہ مجھ کو فیصلؔداستاں آدھی سناتا ہے چلا جاتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books