aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "faraaz"
احمد فراز
1931 - 2008
شاعر
طاہر فراز
1953 - 2026
علی فراز رضوی
born.2002
عاصمہ فراز
born.1985
فراز سلطانپوری
فراز محمود فارز
born.1993
فراز حسن پوری
born.1983
نعیم فراز
born.1980
گل فراز
born.1987
فیاض ہاشمی
1920 - 2011
وجیندر سنگھ پرواز
born.1943
فرح اقبال
دھیریندر سنگھ فیاض
فراز حامدی
born.1946
غلام مصطفی فراز
born.1953
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہےستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔجیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں
وصال جاں فزا تو کیافراق جاں گسل کی بھی
احمد فراز پچھلی صدی کے ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔اپنے معاصرین میں بے حد سادہ اور منفرد اسلوب کی وجہ سے ان کی شاعری خاص اہمیت کی حامل ہے۔ ریختہ فراز کے 20 ایسے معروف و مقبول اور مؤقراشعار کا مجموعہ پیش کر رہاہے جس نے عوام الناس پر سحر ہی طاری نہیں کیا بلکہ ان کے دلوں کو مسخر بھی کیا۔ ان اشعار کا انتخاب بہت آسان نہیں تھا ۔ ہم جانتے ہیں کہ اب بھی فراز کے بہت سے مقبول اشعار اس فہرست میں نہیں ہیں۔اس سلسلے میں آپ کی آرا کا خیر مقدم ہے ۔اگر ہماری مجلس مشاورت اس کو اتفاق رائے سے پسند کرتی ہے تو ہم اس کو نئی فہرست میں شامل کریں گے ۔ہمیں قوی امید ہے کہ آپ کو ہماری یہ کوشش پسند آئی ہوگی اور آپ اس فہرست کو سنوارنے اور آراستہ کرنے میں معاونت فرمائیں گے۔
फ़राज़ فَراز
اونچا، بلند
فارسی
ग़रज़ غَرَض
مطلب، مقصد، حاجت، خواہش، ارادہ، ہدف
عربی
फ़र्ज़ فَرْض
(فقہ) وہ عمل جو دلیل قطعی سے ثابت ہو اور اس میں شبہ نہ ہو، جیسے: نماز روزہ وغیرہ اس کا منکر کافر ہے اور تارک مستوجب عذاب، فرمودۂ خداوندی، جس کا کرنا لازمی ہو
फ़रार فَرَار
بھاگ جانے کا عمل، بھاگ نکلنا، بھاگ جانا، غائب ہونا
کلیات احمد فراز
کلیات
کلام احمد فراز
احمد فراز کی منتخب شاعری
ایم۔ایچ۔کے۔قریشی
انتخاب
خواب گل پریشاں ہے
مجموعہ
شہر سخن آراستہ ہے
احمد فراز شخصیت اور شاعری
عبدالقادر غیاث الدین فاروقی
سوانح حیات
مجموعہ احمد فراز
بے آواز گلی کوچوں میں
کشکول
تنہا تنہا
سخن ہاے عروض
خواجہ فراز بادامی
علم عروض / عروض
مجاز سے فراز تک
بے آواز گلی کوچوں میں
غالب سے فرازتک
احمد ندیم قاسمی
پرتاں
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔکیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں
کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فرازؔسب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلومکہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزلکوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھاتم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہمتو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔدوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نےشاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیںفرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں
اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناںیاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہےاور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیرجس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books