Fayyaz Hashmi's Photo'

فیاض ہاشمی

1920 - 2011 | کراچی, پاکستان

غزل 2

 

اشعار 3

عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں

ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری

چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے

چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی

نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہ

دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری

 

گیت 1

 

کتاب 1

سطح آئینہ

 

1982

 

تصویری شاعری 1

آج جانے کی ضد نہ کرو یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو آج جانے کی ضد نہ کرو ہائے مر جائیں_گے، ہم تو لٹ جائیں_گے ایسی باتیں کیا نہ کرو آج جانے کی ضد نہ کرو تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں جان جاتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم تم کو اپنی قسم جان_جاں بات اتنی مری مان لو آج جانے کی ضد نہ کرو یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو آج جانے کی ضد نہ کرو وقت کی قید میں زندگی ہے مگر چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں ان کو کھو کر مری جان_جاں عمر_بھر نا ترستے رہو آج جانے کی ضد نہ کرو کتنا معصوم رنگین ہے یہ سماں حسن اور عشق کی آج معراج ہے کل کی کس کو خبر جان_جاں روک لو آج کی رات کو آج جانے کی ضد نہ کرو یوں_ہی پہلو میں بیٹھے رہو آج جانے کی ضد نہ کرو

 

ویڈیو 73

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

نامعلوم

آج جانے کی ضد نہ کرو

سادھنا سرگم

آج جانے کی ضد نہ کرو

سادھنا سرگم

آج جانے کی ضد نہ کرو

کوشکی چکربتی

آج جانے کی ضد نہ کرو

کویتا سیٹھ

آج جانے کی ضد نہ کرو

منجری

آج جانے کی ضد نہ کرو

تانیہ ویلس

آج جانے کی ضد نہ کرو

تانیہ ویلس

آج جانے کی ضد نہ کرو

بھوپندر سنگھ

آج جانے کی ضد نہ کرو

انوپ جلوٹا

آج جانے کی ضد نہ کرو

سمراٹ چھابرا

آج جانے کی ضد نہ کرو

ضلع خان

آج جانے کی ضد نہ کرو

آشا بھوسلے

آج جانے کی ضد نہ کرو

شفقت امانت علی

آج جانے کی ضد نہ کرو

شفقت امانت علی

آج جانے کی ضد نہ کرو

پوجا شاہ تلوار

آج جانے کی ضد نہ کرو

پوجا شاہ تلوار

آج جانے کی ضد نہ کرو

سجاتا ترویدی

آج جانے کی ضد نہ کرو

عثمان میر

آج جانے کی ضد نہ کرو

جاسپیندر نارولا

آج جانے کی ضد نہ کرو

پرینکا ویدیہ

چوری کہیں کھلے نہ نسیم_بہار کی

ٹینا ثانی

سمراٹ چھابرا

سمراٹ چھابرا

مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی

کملا جھریا

"کراچی" کے مزید شعرا

  • آرزو لکھنوی آرزو لکھنوی
  • پروین شاکر پروین شاکر
  • سجاد باقر رضوی سجاد باقر رضوی
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • انور شعور انور شعور
  • قمر جلالوی قمر جلالوی
  • عبید اللہ علیم عبید اللہ علیم
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • سیماب اکبرآبادی سیماب اکبرآبادی
  • رئیس امروہوی رئیس امروہوی