aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fossils"
انساں ہیں مگر بیچ کی منزل میں کھڑے ہیںحیوان سے پیچھے ہیں جمادات سے آگے
جس نے مجھے آگاہ کیا حال جہاں سےکیا لطف جمادات کو ہے بے خبری کا
مٹی کے اندر دبے ہوئےفاسلس ہیں
فصیل شہر کے ہر برج ہر منارے پرکماں بہ دست ستادہ ہیں عسکری اس کے
ہے کشادہ ازل سے روئے زمیںحرم و دیر بے فصیل نہیں
در فصیل کھلا یا پہاڑ سر سے ہٹامیں اب گری ہوئی گلیوں کے مرگ زار میں ہوں
نوحے فصیل ضبط سے اونچے نہ ہو سکےکھل کر دیار سنگ میں رویا نہ تو نہ میں
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
تنہائی کے موضوع پر منتخب کئے گئے یہ اشعار پڑھئے جو تنہا ہوتے ہوئے بھی آپ کے اکیلے پن کو بھر دیں گے اور تنہائی کو جینے کا ایک نیا تجربہ دیں گے۔
یہ شاعری محفل کی رنگینیوں ، چہل پہل اور ساتھ ہی محفل کے اندیکھے دکھوں کا بیان ہے ۔ اس شعری انتخاب کو پڑھ کر آپ ایک لمحے کے لئے خود کو محفل کی انہیں صورتوں میں گھرا ہوا پائیں گے ۔
fissilefissile
پھٹا ہوا
fossilfossil
متحجر ، پتھرا یا ہوا ڈھانچا ، پنجر.
fussilyfussily
بھیڑ بھاڑ سے
index fossilindex fossil
معیار العقول
ابن سینا
طبیعیات
فصیل لب
رشید قیصرانی
غزل
فصیل شب
مرزا ادیب
ڈرامہ
وقت کی فصیل
محمد حامد سراج
افسانہ
چار عنصر علم کیمیا میں
منشی محمد ذکاء اللہ
مبادی طبعیات نور
ڈاکٹر زاہد علی
غیر افسانوی ادب
مولانا ابوالکلام نمبر : شمارہ نمبر۔003
لئیق خدیجہ
فصیل
طبیعات نور
عبدالرحمٰن خاں شاکر
خاص نظریۂ اضافیت
محمد حبیب الحق انصاری
فعلیات و حیاتی کیمیا
شارق عدیل
نظم
رضوان احمد
رسالہ معینیہ
خواجہ نصیرالدین طوسی
اساطیر
نامیاتی کیمیا
جولیئس بی کوہن
فضاؤں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کیچٹانیں چیر کر دریا نکالے خاک اسفل سے
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گےفلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے
بیکس کی آرزو میں پریشاں ہے زندگیاب تو فصیل جاں سے دیا بھی اتر گیا
جگنو ہی سہی فصیل شب میںآئینہ خصال آ گیا ہے
اب بھی اک لب میں اور تبسم میںحد فاصل ہے ایک دوری ہے
سفید سنگ کی چادر لپیٹ کر مجھ پرفصیل شہر پہ کس نے سجا دیا مجھ کو
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
دریوزہ گری کے مقبروں سےزنداں کی فصیل خوشنما ہے
وہ موج خوں اٹھی ہے کہ دیوار و در کہاںاب کے فصیل شہر کو غرقاب دیکھنا
پسند آئی نہ ٹوٹی ہوئی فصیل کی راہمیں شہر تن کی گھٹن سے نکل بھی سکتا تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books