aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "g"
اے جی جوش
1928 - 2007
شاعر
امن جی مشرا
born.2001
جی آر وشیشٹھ
born.1996
جی آر کنول
born.1935
جی اے کلکرنی
1923 - 1987
مصنف
بلبل کاشمیری
born.1922
ایچ۔ جی۔ ویلز
جی۔ آر۔ کنول
جی ایم شاد
born.1938
جارج ایڈورڈ مور
جی، ایم، سید
ایس۔ جی۔ آئی۔ حیدر
جی۔ اے۔ سیومن
مدیر
کے جی سیدین
ایڈورڈ جی براؤن
died.1926
گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دنایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دن
زخم کھاتے ہیں اور مسکراتے ہیں ہمحوصلہ اپنا خود آزماتے ہیں ہم
چاندنی رات میں اندھیرا تھااس طرح بے بسی نے گھیرا تھا
اتنا احسان تو ہم پر وہ خدارا کرتےاپنے ہاتھوں سے جگر چاک ہمارا کرتے
آہ بھی حرف دعا ہو جیسےاک دکھی دل کی صدا ہو جیسے
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
عشق ، رومان اور محبت پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
go go
جانا
गो گو
اگرچہ، ہرچند، گرچہ
فارسی
गा گا
(قواعد) فعلِ مستقبل کے صیغوں کے آخر میں مستعمل ، جیسے ؛ آئے گا ، جائے گا ، کھائے گا وغیرہ میں.
سنسکرت
गी گی
گا کی تانیث، اسے فعل کے آگے لگا کر فعل مستقبل اور صیغہ واحد نیز جمع مونث بناتے ہیں
جیسا میں نے دیکھا
سماع اور دیگر اصطلاحات
دینا کی مختصر تاریخ
تاریخ
تاریخ ادبیات ایران بعہد مغولان
دیر آید
مجموعہ
اودھ انڈر واجد علی شاہ
جی۔ ڈی۔ بھٹناگر
اقبالز ایجوکیشنل فلاسفی
دیگر
پراسرار جزیرہ
ناول
شیخ یعقوب صرفی شخصیت و فن
جی۔ آر جان
سوانح حیات
خانقاہ
ایم۔ جی۔ لیوس
ہندو اخلاقیات
جی اے چندا ورکر
ہندو ازم
تاریخ ادبیات ایران
کشمیر گائیڈ
خواجہ جی ایم دین
بنیاد نفسیات
جی ۔ایف۔ اسٹاوٹ
نفسیات
اصول تعلیم
نصاب
دنیا کی مختصر تاریخ
ہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سےفائدہ کیا ہے بھلا ایسوں کے یارانے سے
جب کبھی ذکر یار کا آیاایک جھونکا بہار کا آیا
نہ سوچنا کہ زمانے سے ڈر گئے ہم بھیتری تلاش میں غیروں کے گھر گئے ہم بھی
جینا کب تک محال ہوگاآخر اک دن وصال ہوگا
سونا سونا دل کا مجھے نگر لگتا ہےاپنے سائے سے بھی آج تو ڈر لگتا ہے
ٹھکرا کے چلے جانا ہے برحق تمہیں لیکنبس رکھنا خیال اتنا جہاں کو نہ خبر ہو
موت بھی میری دسترس میں نہیںاور جینا بھی اپنے بس میں نہیں
اک ذرا تم سے شناسائی ہوئیشہر بھر میں میری رسوائی ہوئی
ممکن ہے شب ہجر دعا کا نہ اثر ہوہے رات وہ کیا رات کہ جس کی نہ سحر ہو
شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلےدکھائی دی مجھے تعبیر خواب سے پہلے
کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگاکچھ خموشی کا بھی سبب ہوگا
سر راہے کبھی کبھار سہیرس بھری اک نگاہ یار سہی
میری بربادی میں حصہ ہے اپنوں کاممکن ہے یہ بات غلط ہو پر لگتا ہے
ہم ہی ذرے رسوائی سےکیا شکوہ ہرجائی سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books