aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gazanfar"
غضنفر
born.1953
مصنف
غضنفر ہاشمی
born.1966
شاعر
شاکر نائطی
1899 - 1967
سید غضنفر علی غضنفر
غضنفر اقبال
born.1978
خاکسار غضنفرعلی
غضنفر نواب دانش
سید علی غضنفر
محمود احمد غضنفر
میر غضنفر علی بیتاب
محمد غضنفر علی خاں
مدیر
غضنفر علی باقری
محمد عبدالرحمن غضنفر
ناشر
سید مسعود احمد غضنفر
بشریٰ غضنفر
ہمارے ہاتھ سے وہ بھی نکل گیا آخرکہ جس خیال میں ہم مدتوں سے کھوئے تھے
رفتہ رفتہ آنکھوں کو حیرانی دے کر جائے گاخوابوں کا یہ شوق ہمیں ویرانی دے کر جائے گا
عجب طرح کا ادھوراپن ہے مرے بیاں میںسو میرا قصہ کہیں سنانے میں رہ گیا ہے
ہر ایک رات کہیں دور بھاگ جاتا ہوںہر ایک صبح کوئی مجھ کو کھینچ لاتا ہے
اور غضنفرؔجو رومال میں لڈو باندھ کے اس کے گھر میں پھینکا کرتا تھا
ग़ज़ंफ़र غَضَنْفَر
شیر، اسد، ضیغم
عربی
ग़ज़ंफ़री غَضَنْفَری
بہادری ، شجاعت ، دلیری ، جونمردی .
ग़ान्फ़र غانْفَر
तुकिस्तान का एक नगर ।
فارسی
ग़ात्फ़र غاتْفَر
दे. 'ग्राफ़र'।
جدید طریقہ تدریس
تعلیم
تاریخ بنی ہاشم
غضنفر: اردو فکشن کی ایک معتبر آواز
محمد انور
فکشن تنقید
صحابیات مبشرات
اسلامیات
تدریس شعر و شاعری
شاعری تنقید
خوش رنگ چہرے
خاکے/ قلمی چہرے
پارکنگ ایریا
افسانہ
پانی
مانجھی
ناول
شرح دیوان غالب
شرح
بغداد کا تاجر اور بچوں کی عدالت
فسوں
دیکھ لی دنیا ہم نے
خود نوشت
اردو افسانہ 1980 کے بعد
غضنفر شناسی
ڈاکٹر رمیشا قمر
ناول تنقید
نہ جانے کس طرح بستر میں گھس کر بیٹھ جاتی ہیںوہ آوازیں جنہیں ہم روز باہر چھوڑ آتے ہیں
بچ کے دنیا سے گھر چلے آئےگھر سے بچنے مگر کدھر جائیں
سجا کے ذہن میں کتنے ہی خواب سوئے تھےکھلی جو آنکھ تو خود سے لپٹ کے روئے تھے
بہت ضروری تھا خود سے ملنا مگر غضنفرؔیہ کار دنیا کے تانے بانے میں رہ گیا ہے
دفتر میں ذہن گھر پہ نگہ راستے میں پاؤںجینے کی کاوشوں میں بدن ہاتھ سے گیا
میں ایسا نرم طبیعت کبھی نہ تھا پہلےضرور لمس کوئی اس کا چھو گیا مجھ کو
یقین جانیے اس میں کوئی کرامت ہےجو اس دھوئیں میں مری سانس بھی سلامت ہے
میں اس کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھ کے سنتا ہوںکہ اس کے جھوٹ میں بھی زندگی کی قوت ہے
ہم کہ ساحل کے تصور سے سہم جاتے ہیںلوگ کس طرح سمندر میں اترتے ہوں گے
بہت خوب صورت ہمارا وطن ہےانوکھا ہے سب سے نرالا وطن ہے
عجیب شخص ہے پہلے مجھے ہنساتا ہےپھر اس کے بعد بہت دیر تک رلاتا ہے
یہ تمنا نہیں کہ مر جائیںزندہ رہنے مگر کدھر جائیں
سن کے ہم محو چمن اس کو غضنفرؔ آئےدل پر داغ سے گل زار بغل میں لے کر
تگ و دو کے بعد بھی کنواں جب پیاسوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو کسی گہرائی سے زور دار قہقہے بلند ہوئے۔ جیسے کوئی اپنی طاقت اور دوسرے کی ہزیمت کا احساس دلا رہا ہو۔...
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books