aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "giraa"
ابھیسار گیتا شکل
born.1994
شاعر
گیتا ٹھاکر روشنی
مصنف
مہر گیرہ
انکر گری
born.1991
گری راج کشور
گورا پبلیشرز، لاہور
ناشر
برکت رائے گیتا
1895 - 1980
مترجم
گیتا اینگر
طاہر اسلم گورا
مکند گیر
گیتا ناکرا
عطیہ کار
ویدا گیری رام بابو
منشی گرجا سہائے
گرجا کمار سنہا
مدیر
گیتا پرنٹنگ پریس، حیدرآباد
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیںمیں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا
یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتامجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دیناحسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھےکام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
گریہ وزاری عاشق کا ایک مستقل مشغلہ ہے ، وہ ہجر میں روتا ہی رہتا ہے ۔ رونے کے اس عمل میں آنسوختم ہوجاتے ہیں اور خون چھلکنے لگتا ہے ۔یہاں جو شاعری آپ پڑھیں گے وہ ایک دکھے ہوئے اور غم زدہ دل کی کتھا ہے ۔
गिराگِرا
سنسکرت
گِرا ہوا ، افتادہ ؛ (کنایۃً) محتاج ، ذلیل.
मिराمِرا
میرا کا مخفف (عموماً ضرورت شعری کی وجہ سے شاعری میں مستعمل)
गियाگِیا
گھانس
तिराترا
تیرا کی تخفیف (عموماً ضرورت شعری کی وجہ سے شاعری میں مستعمل)
پانی میں گھرا پانی
منشایاد
افسانہ
پیکار
شاعری
بارش میں گھرا مکان
حسین الحق
دائرے میں گھرا آدمی
راج پال سہگل
اردو شاعری میں گیتا
انور جلال پوری
نظم
ہدایت نامۂ غذا
کوی راج ہرنام داس
علاج بذریعہ غذا
حکیم احتشام الحق قریشی
طب
بھگوت گیتا
رزمیہ
دیوار گریہ اشعار کے پیچھے
انور مسعود
اور دیوار گر گئی
قمر علی عباسی
سفر نامہ
شری مد بھگوت گیتا اردو
ہری رام بھارگو
بھگود گیتا
دلے دی بار
اسد سلیم شیخ
ہندوستانی تاریخ
جب دیواریں گریہ کرتی ہیں
الطاف فاطمہ
خواتین کی تحریریں
روشنی
غزل
گرا دیا ہے تو ساحل پہ انتظار نہ کراگر وہ ڈوب گیا ہے تو دور نکلے گا
گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھوآندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا
بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہےڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کربوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیزیعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گراٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ
یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیںجس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا
ایک اداسی کے جزیرے پہ ہوں اشکوں میں گھرامیں نکل جاؤں اگر خشک گزر گاہ ملے
ہر بار ایڑیوں پہ گرا ہے مرا لہومقتل میں اب بہ طرز دگر جانا چاہیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books