aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gire"
انکر گری
born.1991
شاعر
مہر گیرہ
مصنف
گری راج کشور
مکند گیر
ویدا گیری رام بابو
مطبع اردو گائیڈ، کلکتہ
ناشر
سر گور اوزےلی
1770 - 1844
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیںوہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
پھول تو پھول ہیں آنکھوں سے گھرے رہتے ہیںکانٹے بیکار حفاظت میں لگے رہتے ہیں
سنوار نوک پلک ابرووں میں خم کر دےگرے پڑے ہوئے لفظوں کو محترم کر دے
یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیںجس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا
میرے دامن میں آ گرے سارےجتنے طشت فلک میں تارے تھے
ربیندرناتھ ٹیگور پر کہی گئی چند بہترین اردو نظمیں
ترقی پسند دور میں جو شاعری ہوئی وہ اس وقت کے سماج کو صحیح راہ دکھانے کے لئے تھی - کئی شاعروں نے اس وقت ایسے کلام کہے جس میں ذاتی دکھ درد کے ساتھ ساتھ سماج کی اصلاح بھی تھی -
یوم آزادی پر لکھی یہ نظمیں ہمیں ہمارے ملک کی عظمت کا احساس کراتی ہیں -
गिरे گِرے
گِرا (گرنا کا صیغۂ ماضی) کی جمع، نیز مغیرہ حالت، مرکبات میں مستعمل
mire mire
دُلْدُل
मिरे مِرے
میرے کا متبادل، عموماً شاعری میں مستعمل
tire tire
ہَلْکان
سمندر اگر میرے اندر گرے
وزیر آغا
مضامین
غار حرا میں ایک رات
مستنصر حسین تارڑ
اور دیوار گر گئی
قمر علی عباسی
سفر نامہ
دلے دی بار
اسد سلیم شیخ
ہندوستانی تاریخ
کالج گرل
ملک زادہ منظور احمد
ہوم گرل
نمرہ احمد
ناول
پانی میں گھرا پانی
منشایاد
افسانہ
ڈھائی گھر
ترجمہ
گیلے پتّوں کی مسکان
اسلم مرزا
مجموعہ
بے کسوں کی دستگیری
مطہر ضیا
افسانہ / کہانی
گل لاجورد
خلیل تنویر
کال گرل
آشا رانی لکھوٹیا
ائمئہ تبلیس یا غارتگران ایمان
ابوالقاسم رفیق دلاوری
جام سرور
سرور جہاں آبادی
محمد ﷺ آغوش آمنہ سے غار حرا تک
علی اصغر چودھری
اسلامیات
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھےکہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرےجتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میںکسی ستارے کو دیکھ لینا
مرا سر کٹ کے مقتل میں گرے قاتل کے قدموں پردم آخر ادا یوں سجدۂ شکرانہ ہو جائے
گرے ہیں اور تیرے گیسوؤں میںالجھ کے گلنار ہو گئے ہیں
زمیں پر آ گرے جب آسماں سے خواب میرےزمیں نے پوچھا کیا بننے کی کوشش کر رہے تھے
کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکنتتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا
وہ زرد پتے جو پیڑ سے ٹوٹ کر گرے تھےکہاں گئے بہتے پانیوں میں بلائے کوئی
مری بے زبان آنکھوں سے گرے ہیں چند قطرےوہ سمجھ سکیں تو آنسو نہ سمجھ سکیں تو پانی
مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروںجس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے
میری پلکوں پر یہ آنسو پیار کی توہین تھےآج آنکھوں سے گرے موتی کے دانے ہو گئے
ایسے اس ہاتھ سے گرے ہم لوگٹوٹتے ٹوٹتے بچے ہم لوگ
یہ ابر پارہ نہیں دوست اشک گریہ ہےیہ پتھروں پہ گرے تو شگاف ہو جائے
گوشہ گیر غبار ذات ہوں میںمجھ میں ہو کر مرا پتا مانگو
اب گرے سنگ کہ شیشوں کی ہو بارش فاکرؔاب کفن اوڑھ لیا ہے کوئی افسوس نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books