aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ikaa.ii"
آقا بیدار بخت خاں
مصنف
عباس محمود العقاد
اوکھائی میمن ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ پبلیکشن
ناشر
اوکھائی پرنٹنگ پریس، اوکھائی
عطائی
شاعر
ٹھاکر اچھر چند
اجے کمار ڈڈن
شاہ محمد عطائی
سید حسین آقا
مدیر
غلام محبوب ابو العلائی
عکسی مفتی
محمد داود نقشبندی ابو العلائی
فہد مطیع خان
آقا حسین قلی خاں عظیم آبادی
صدیق عمائی
مترجم
گزرتا ہے یا تھما ہوا ہےاکائی ہے یا بٹا ہوا ہے
وہ جو مجھ میں ایک اکائی تھی وہ نہ جڑ سکییہی ریزہ ریزہ جو کام تھے مجھے کھا گئے
عظمتیں سب تری خدائی کیحیثیت کیا مری اکائی کی
عالم کثرت نہاں ہے اس اکائی میں سلیمؔخود میں خود کو جمع کیجے اور کئی بن جائیے
مری اکائی کو اظہار کا وسیلہ دےمری نظر کو مرے دل کو امتحان میں لا
आक़ाई آقائی
آقا ہونے کی حیثیت یا حالت، حکومت
فارسی
अखाई اَکھائی
رک : اَکھانی
इकाई ایکائی
یکتائی، وحدت
سنسکرت
इकाई اِکائی
(حساب) ایک سے نو تک کا عدد، ہندسوں میں دہائی سے پہلے کے اعداد، احاد
ہندی
زیر دستوں کی آقائی
طہٰ حسین
سوانح حیات
اکائی
بشیر بدر
غزل
اکائی سے پہلے
ضیاء الانجم
اکائی کے بعد
مجموعہ
اکائی کی موت
تاریخ اوکھائی میمن برادری
عبدالعزیز اسماعیل مرکٹیا
اردوکی آخری کتاب
ابن انشا
نثر
آخری چٹان
نسیم حجازی
ناول
باغ و بہار
میر امن
داستان
بریلویت: تاریخ و عقائد
علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید
اردو افسانوں میں سماجی مسائل کی عکاسی
ڈاکٹر شکیل احمد
افسانہ تنقید
دہلی کا ایک یاد گارآخری مشاعرہ
مرزا فرحت اللہ بیگ
زبان و ادب
انسانیت موت کے دروازے پر
ابوالکلام آزاد
اسلامیات
آخری معرکہ
تاریخی
سب کی اپنی ایک اکائی ہوتی ہےسب کا اپنا ایک زمانہ ہوتا ہے
کوئی اکائیشجر حجر ہو کہ ذی نفس ہو
میں اپنے آپ کو ترتیب دے رہا ہوں ابھیمرا مقام وہاں ہے جہاں اکائی ہے
خوب ہے یہ اکائی بھی لیکنجو مزہ انتشار میں آیا
بشیر بدرنے اپنا شعری مجموعہ ’’اکائی‘‘ اس التماس کے ساتھ فراق صاحب کو بھیجا کہ وہ اپنی گراں قدر رائے سے نوازیں۔ فراق صاحب نے اپنی رائے لکھی،...
مجھ میں رچ بس کے بھی تو مجھ سے الگ خود سے الگتیرے جیون کی امٹ روپ اکائی نہ گئی
یہ اکائی اور آمد ہیں کتابیں بدرؔ کیناقدوں نے ان کتابوں سے ہی ان کی قدر کی
پھر درس مساوات کی حاجت ہے جہاں کوآقائی و خدمت کے خطابات بدل ڈال
غلامی آج بھی ہے اور آقائی کی صورت میںادائے جبر سلطانی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے
وہ جو دیوار آشنائی تھیاپنی ہی ذات کی اکائی تھی
شاید اکائی ذہن کی تقسیم ہو گئیہم شعر بھولنے لگے اپنے کہے ہوئے
اک اکائی پر اسی کی ضرب سےکثرت وحدت کا پیدا ہے طلسم
میں اکائی کی طرح سب میں سمایا ماجدؔبات بڑھ جائے گی اعداد کو گنواؤ نہیں
وہ ہر لحاظ سے نا معتبر اکائی تھامگر وقار سے موجود ہر عدد میں رہا
یوں بھی ہوا دہائی اکائی میں ڈھل گئیخورشید کے الاؤ میں ہر شے پگھل گئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books