aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jashn-e-siyaah"
یہ بھی کمال ہی تو ہے قابل داد صاحبانآج کلام جشنؔ میں کوئی کمال بھی نہیں
دیوں کے قتل پہ سورج کی ہر کرن چپ ہےاس احتیاط کو جشن سیاہ لکھ لیجے
اندھیارے آنکھ آنکھ میں پہنا گئی ہے شاماک چادر سیاہ کو پھیلا گئی ہے شام
گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کابیٹھے بیٹھے آ گئی نیند اصرار تھا یہ کسی خواہش کا
اس کی کیا وجہ مرے ہوتے وہاں کیوں نہ رہیںکیوں رہے زلف سیہ آپ کے رخسار کے پاس
ادھر رانی کی شرطیں ہیں کرے گا جو بھی پوری یہتو رانی تب ہی جائے گیلو اس کی شرط بھی سن لو کہکنیز خاص کو لے کر ہی رانی آپ کی ہوگیکرے گی کمرے کا رخ جب کنیز خاص ہم راہ ہوسیاہ ہو چاہے گوری ہو مگر وہ ساتھ میں جائےعجب ہے کھیل کیرم کا
صد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھا
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
جشن تدفین آرزو وصالاور سانسوں کا رقص جاری ہے
جشن غم ہائے دل مناتا ہوںچوٹ کھاتا ہوں مسکراتا ہوں
جشن آوارگی و رنج مسافت کا شریکدشت کا دشت ہوا ہے مری وحشت کا شریک
رباب چھیڑ غزل خواں ہو رقص فرما ہوکہ جشن نصرت محنت ہے جشن نصرت فن
اک سمت جشن شادی و ہنگامۂ نشاطاک سمت حشر آہ و فغاں دیکھتا ہوں میں
جشن آزادیٔ ہند ہے یہدھج ترنگے کی دیکھو نرالی
جشن سوز غم مناتے جائیےاشک پلکوں پر سجاتے جائیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books