aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maktabo.n"
مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی
ناشر
مکتبہ پیام تعلیم، نئی دہلی
مدیر
مکتبۂ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی
مکتبہ الحسنات، رامپور یو۔پی۔
مکتبہ اردو ادب، جموں کشمیر
مکتبہ جماعت اسلامی ہند، دہلی
مکتبہ احمدیہ، قادیان
مکتبۂ ابراہیمیہ امداد باہمی، حیدرآباد
مکتبہ دار المعارف، الہٰ آباد
مکتبہ ابراہیمیہ، حیدرآباد
مکتبہ الفہیم مئو ناتھ بھنجن، یوپی
مکتبہ عابدیہ، بھوپال
مکتبہ اہل سنت والجماعت، دہلی
مکتبہ جامع نور، دہلی
مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہےخانقاہوں میں کہیں لذت اسرار بھی ہے
اس امتحاں کے سوال آتے نہیں نصابوں سے مکتبوں کےعجیب عاشق ہے یہ جو پڑھ کر کتاب تیار ہو رہا ہے
اظہرؔ وہ مکتبوں کے پڑھے معتبر تھے لوگبیساکھیوں پہ صرف سند کی کھڑے نہ تھے
ہم علم بردار اپنے جہل کےمکتبوں کے علم برداروں کے بیچ
بہار بن کے جب سے وہ مرے جہاں پہ چھائے ہیںتجلیوں کی چاندنی ہے مکتبوں کے سائے ہیں
صفات پروردگار عالم
سید مرتضی
مکتب دارالعلوم ندوۃ العلماء کا نظام و نصاب تعلیم
نا معلوم ایڈیٹر
نصاب
شمارہ نمبر۔002
عبدالقادر سروری
مجلۂ مکتبہ
فہرست مکتبہ دار المصنفین
اشاریہ
مکتب نامہ
تعلیم
مکتب کی محبت لیلیٰ مجنوں
دھنا سنگھ شاد دہلوی
شمارہ نمبر۔003، 004
شمارہ نمبر: 006
شمارہ نمبر۔001
Apr 1932مجلۂ مکتبہ
May 1933مجلۂ مکتبہ
شمارہ نمبر۔006
شمارہ نمبر۔004
Jul 1932مجلۂ مکتبہ
شمارہ نمبر۔005
Aug 1933مجلۂ مکتبہ
شمارہ نمبر-002
Dec 1932مجلۂ مکتبہ
خیال و فکر کے سب مکتبوں میں پوچھ لیامتاع دانش و تحقیق و جستجو ترا غم
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والیاپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھااس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے
رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضورحکمتیں آگاہیاں دانائیاں
آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والےگھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیںان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
ریت ابھی پچھلے مکانوں کی نہ واپس آئی تھیپھر لب ساحل گھروندا کر گیا تعمیر کون
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تموہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہےہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تمچھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینیخود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تممیری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دوامید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیںمری حیات کی غمگینیوں کا غم نہ کروغم حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیںتم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرووفا فریب ہے طول ہوس ہے کچھ بھی نہیںمجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہومری فنا مرے احساس کا تقاضا ہےمیں جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کومجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہےیہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہےشکست ساز کی آواز روح نغمہ ہےمجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیںمرے خیال کی دنیا میں میرے پاس ہو تمیہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروںمگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تمخفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پرتمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تممرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گامگر خدا کے لیے تم اسیر غم نہ رہوہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیایہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا سوچو تومجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کیمیں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دومیں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گامگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتامیں خود کو موت کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہوںمگر یہ بار مصائب اٹھا نہیں سکتاتمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھےنجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں سکتایہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلےہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صداہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شورہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکایہ کارخانوں میں لوہے کا شور و غل جس میںہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہیہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑیوں کی جھلکیہ جھونپڑوں میں غریبوں کے بے کفن لاشےیہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شوریہ پٹریوں پہ غریبوں کے زرد رو بچےگلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرےحسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئییہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواںخریدی جاتی ہیں اٹھتی جوانیاں جن کییہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفتیہ ذلتیں یہ غلامی یہ دور مجبورییہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کواداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو
جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نوراپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تم کو
شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سےسبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books