aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "manzil-e-shaam-e-gam"
منزل نقشبندیہ، لاہور
ناشر
مطبع فیض منبع شام اودھ
مطبع شام اودھ، لکھنؤ
شام ہمدرد، کراچی
شام بہار ٹرسٹ، امبالہ
دفتر شمع ادب، سلطانپور
نور شمع نور
مصنف
سیدہ شانِ معراج
born.1948
شاعر
شان حیدر بیباک امروہوی
منظور عام کتب خانہ، پشاور
منظورعام برقی پریس، لاہور
شان زہرہ
مدیر
ادارۂ شب رنگ، الہ آباد
آٗئی۔ گاوریلوف
شمع ادب، لکھنو
بہلا نہ دل نہ تیرگیٔ شام غم گئییہ جانتا تو آگ لگاتا نہ گھر کو میں
سواد شام غم میں یوں تو دیر تک جلا چراغنہ جانے کیوں تھکا تھکا اداس اداس تھا چراغ
مایوس شام غم تجھے اس کی خبر بھی ہےتاریکیوں کی آڑ میں نور سحر بھی ہے
تشنگی آوارگی خانہ خرابی بیکلیہے بہت وسعت لئے یہ خاندان شام غم
نگار شام غم میں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوںگلے مل لے کہ یوں ملنے کی نوبت پھر نہ آئے گی
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
گھر کے مضمون کی زیادہ تر صورتیں نئی زندگی کے عذاب کی پیدا کی ہوئی ہیں ۔ بہت سی مجبوریوں کے تحت ایک بڑی مخلوق کے حصے میں بے گھری آئی ۔ اس شاعری میں آپ دیکھیں گے کہ گھر ہوتے ہوئے بے گھری کا دکھ کس طرح اندر سے زخمی کئے جارہا ہے اور روح کا آزار بن گیا ہے ۔ ایک حساس شخص بھرے پرے گھر میں کیسے تنہائی کا شکار ہوتا ہے، یہ ہم سب کا اجتماعی دکھ ہے اس لئے اس شاعری میں جگہ جگہ خود اپنی ہی تصویریں نظر آتی ہیں ۔
منزل کی تلاش وجستجو اور منزل کو پا لینے کی خواہش ایک بنیادی انسانی خواہش ہے ۔ اسی کی تکمیل میں انسان ایک مسلسل اور کڑے سفر میں سرگرداں ہے لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ مل جانے والی منزل بھی آخری منزل نہیں ہوتی ۔ ایک منزل کے بعد نئی منزل تک پہنچنے کی آرزو اور ایک نئے سفر کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ منزل اور سفر کے حوالے سے اور بہت ساری حیران کر دینے والی صورتیں ہمارے اس انتخاب میں موجود ہیں ۔
صبح ملال و شام غم
منشی احمد حسین خاں
شام غم
محمد عبدالقوس خاں
ناول
سراب زندگی
عبدالرحمٰن شوق امرتسری
خود نوشت
رپورٹ سفر حجاز و شام و مصر
محمد ظہور الحق
سفرنامۂ یورپ و بلاد روم و شام و مصر
منشی محبوب عالم
سر لوح شام فراق پھر
سباس گل
سرخی شام سفر
اختر سعید خان
تذکرۂ شمع اردو
ساحل بلگرامی
حصار شام و سحر
شہناز مسرت
خواتین کی تحریریں
رونامہ با تصویر
خواجہ حسن نظامی
مقالات شام ہمدرد
حکیم محمد سعید دہلوی
سوزوگداز
محمد ظہیر احسن شوق
سفرنامۂ روم و مصروشام
شبلی نعمانی
سفر نامۂ روم و مصر و شام
ترجمہ
نقیب صبح تو تھے ہم رہین شام غم نکلےبڑے جھوٹے ترے وعدے ترے قول و قسم نکلے
اے شام غم کی گہری خموشی تجھے سلامکانوں میں ایک آئی ہے آواز دور کی
وہ آئی شام غم وقف بلا ہونے کا وقت آیاتڑپنے لوٹنے کا دم فنا ہونے کا وقت آیا
شام غم کروٹ بدلتا ہی نہیںوقت بھی خوددار ہے تیرے بغیر
بہت روشن ہے شام غم ہماریکسی کی یاد ہے ہم دم ہماری
شام غم کی سحر نہیں آتیروشنی میرے گھر نہیں آتی
شام غم اور ستاروں کے سواجی سکے ہم نہ سہاروں کے سوا
شام غم آج ذرا ایسے منا لی جائےبے سبب ایک غزل اور سنا لی جائے
آج بھی شام غم! اداس نہ ہومانگ کر میں چراغ لاتا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books