aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maqaamaat"
مکتبۃ البشریٰ، کراچی
ناشر
محمد نعمان خاں
born.1952
مصنف
محمود حسن احقر
محکمہ نشریات لاسکی سرکار عالی
مکتبۃ الثقافۃ الدنیا
پرکاشن شاکھا محکمۂ اطلاعات، یو پی
مہارت سرور
مطبع محکمۂ صدر نظامت کوتوالی اضلاع سرکار عالی
محکمہ فلم و مطبوعات وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان
محكمه تعلقات عامه، پنجاب
مکتبۃ المدینہ، احمدآباد
محکمۂ اطلاعات و تعلقات عامہ، آندھرا پردیش
مکتبۃ الفقیر، فیصل آباد، پاکستان
محکمہ تعلقات عامہ مغربی پاکستان، لاہور
مدیر
المکتبۃ القاسمیہ، لاہور
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غممقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
جبرئیلہمدم دیرینہ کیسا ہے جہان رنگ و بوابلیسسوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزوجبرئیلہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگوکیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفوابلیسآہ اے جبریل تو واقف نہیں اس راز سےکر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبواب یہاں میری گزر ممکن نہیں ممکن نہیںکس قدر خاموش ہے یہ عالم بے کاخ و کوجس کی نومیدی سے ہو سوز درون کائناتاس کے حق میں تقنطو اچھا ہے یا لاتقنطواجبرئیلکھو دیئے انکار سے تو نے مقامات بلندچشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبروابلیسہے مری جرأت سے مشت خاک میں ذوق نمومیرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پودیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خیر و شرکون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے میں کہ توخضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پامیرے طوفاں یم بہ یم دریا بہ دریا جو بہ جوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہومیں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرحتو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنیکبھی دریا نہیں کافی کبھی قطرہ ہے بہت
مقالات
मक़ामातمَقامات
عربی
مراتب، مدارج، رتبے
मलामतمَلامَت
لعن طعن، برا بھلا کہنا، ڈانٹ پھٹکار، سرزنش، فضیحت
मकम्मातمَکَمّات
مکرمت ، احترام .
मरम्मतمَرَمَّت
ٹوٹی پھوٹی، ناقص چیز یا پھٹے پرانے کپڑے یا ٹوٹی ہوئی عمارت، مکان وغیرہ کی درستی، کسی چیز کو ٹھیک ٹھاک کرنا
لطائف خمسہ
غلام علی
تصوف
مقامات وارث شاہ
علی عباس جلالپوری
شاعری تنقید
مقامات الاولیا
مولوی محمد خلیل الرحمن
سماع اور دیگر اصطلاحات
ایک نادر سفرنامہ
عبدالغفار خاں
سفر نامہ
مقامات
احسان دانش کاندھلوی
مجموعہ
مقامات بدیع الزمان الھمدانی
سید محمد مدنی اختر
مضامین
مقامات حریری
ابو محمد قاسم حریری
اخلاقیات
مجموعہ حالات ومقامات امام ربانی مجدد الف ثانی
محمد عبد الاحد
سوانح حیات
مقامات خیر
شاہ ابو الحسن زید فاروقی
مقامات اجمل
محمد اجمل خاں
اسلامیات
مقامات احمدیہ
خواجہ محمد امین
زبدۃ المقامات
مقامات اقبال
سید عبداللہ
اقبالیات تنقید
دل زندہ و بے دار اگر ہو تو بتدریجبندے کو عطا کرتے ہیں چشم نگراں اوراحوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھہر لحظہ ہے سالک کا زماں اور مکاں اورالفاظ و معانی میں تفاوت ۔۔۔نہیں لیکنملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اورپرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میںکرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
وہ مقامات مقدس وہ ترے گنبد و قوساور مرا ایسے نشانات کا زائر ہونا
نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیںکہ ہم پرندے مقامات گم شدہ کے ہیں
جب دھول ہوئے راہ سفر میں تو یہ جانامنزل گہہ جاں ہیں جو مقامات وہ تم ہو
جو نہ سمجھے تیری منزل وہ یوں ہی چلتا رہارک گیا تیرے مقامات سمجھنے والا
کاغذ مراکشیوں نے ایجاد کیاحروف فونیشیوں نےشاعری میں نے ایجاد کیقبر کھودنے والے نے تندور ایجاد کیاتندور پر قبضہ کرنے والوں نے روٹی کی پرچی بنائیروٹی لینے والوں نے قطار ایجاد کیاور مل کر گانا سیکھاروٹی کی قطار میں جب چیونٹیاں بھی آ کر کھڑی ہو گئیںتو فاقہ ایجاد ہو گیاشہتوت بیچنے والے نے ریشم کا کیڑا ایجاد کیاشاعری نے ریشم سے لڑکیوں کے لیے لباس بنایاریشم میں ملبوس لڑکیوں کے لیے کٹنیوں نے محل سرا ایجاد کیجہاں جا کر انہوں نے ریشم کے کیڑے کا پتا بتا دیافاصلے نے گھوڑے کے چار پاؤں ایجاد کیےتیز رفتاری نے رتھ بنایااور جب شکست ایجاد ہوئیتو مجھے تیز رفتار رتھ کے آگے لٹا دیا گیامگر اس وقت تک شاعری محبت کو ایجاد کر چکی تھیمحبت نے دل ایجاد کیادل نے خیمہ اور کشتیاں بنائیںاور دور دراز کے مقامات طے کیےخواجہ سرا نے مچھلی پکڑنے کا کانٹا ایجاد کیااور سوئے ہوئے دل میں چبھو کر بھاگ گیادل میں چبھے ہوئے کانٹے کی ڈور تھامنے کے لیےنیلامی ایجاد ہوئیاورجبر نے آخری بولی ایجاد کیمیں نے ساری شاعری بیچ کر آگ خریدیاور جبر کا ہاتھ جلا دیا
تیر برسے کبھی خنجر آئےیہ مقامات بھی اکثر آئے
حیرت کے مقامات میں قانون نوا نئیںہے ساز خموشی لب تصویر کی آواز
راہ الفت میں مقامات پرانے آئےتم نہ آئے تو مجھے یاد فسانے آئے
اس کی نظروں میں سارے مقامات ہیںپر اسے شوق اندھی اڑانوں کا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books