aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "marja.a"
مرزا غالب
1797 - 1869
شاعر
داغؔ دہلوی
1831 - 1905
بہادر شاہ ظفر
1775 - 1862
محمد رفیع سودا
1713 - 1781
رسا چغتائی
1928 - 2018
فنا نظامی کانپوری
1922 - 1988
یگانہ چنگیزی
1884 - 1956
مرزا سلامت علی دبیر
1803/4 - 1875
واجد علی شاہ اختر
1823 - 1887
مرزارضا برق ؔ
1790 - 1857
ثاقب لکھنوی
1869 - 1946
مظہر مرزا جان جاناں
1699 - 1781
آغا اکبرآبادی
died.1879
حاتم علی مہر
1815 - 1879
مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی
1882 - 1935
نہیں ہے مرجع آدم اگر خاککدھر جاتا ہے قد خم ہمارا
بن گیا مرجع خلائق دشتشہر کی اس قدر فضا بگڑی
لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہسب جس میں بھرے ہیں گل و مجمع ہے یہ
محفل کا نور مرجع اغیار کون ہےہم میں ہلاک طالع بیدار کون ہے
احمد کا مقام ہے مقام محمودہے مرجع حمد اور شایان درود
मर्ज़ा مَرضا
۔(ع۔مَرْضے ۔بروزناَدْنے)مذکر۔مریض کی جمع۔؎ ۔(ہمتا۔فردا۔قافے)۔
मर्ज़ा مَرزَہ
(طب) مرزن ، چوہا ۔
मर्जा' مَرْجَع
جائے بازگشت، پھر کے آنے کی جگہ، ٹھکانا، پناہ گاہ
عربی
मरहला مَرحَلا
مقام،منزل، اہم کام، بری مسافت، درجہ مرتبہ، دن بھر کا سفر، سفر کی جگہ یا وقت منزل یا کوچ کی جگہ
مرجع غیب
مرج البحرین (یادگار آصفیہ)
حکیم سید عبدالحمید
لطائف رشیدیہ
مولانا رشید احمد گنگوہی
دیوان غالب
شاعری
غالب ان انگلش ورس
روشن چفلا
اردو افسانے کی روایت
مرزا حامد بیگ
تحقیق و تنقید
انتخاب خطوط غالب
خطوط
اردو سفر نامے کی مختصر تاریخ
دیوان غالب جدید
خطوط غالب
نوائے سروش
غالب کے خطوط
مرجع برق بلا ہے اے وفاؔ دنیائے عشقحاصل حسرت یہاں جز حسرت حاصل نہیں
راے زادوں اور سرداروں کی خاک پاک توشاعران خوش بیاں کا مرجع ادراک تو
شیخ اور بذلہ سنج شوخ مزاجرند اور مرجع کرام و ثقات
ڈھلے ہے جس پہ دل تس کا کیا ہے ظاہر اسموہی ہے وہ کہ جو مرجع ہے ان ضمیروں کا
مرجع گبر و مسلماں ہے وہ بت نام خدابھیجتے ہیں اسے ہندو و مسلماں کاغذ
در جاناں بھی اک مرجع ہے بہرامؔہجوم عاشقاں ہے رہ گزر بند
مرجع عشق فقط ذات خدا ہے سلمانؔوادیٔ عشق میں کیوں تم کو خدا یاد نہیں
بنا ہے مرجع احباب گھر مرا گوہرؔدر آئی مہر و محبت کی جب سے بو مجھ میں
ایک ہے جب مرجع اسلام و کفرفرق کیسا سبحہ و زنار کا
بتوں کو مرجع حاجت بنا نہ اے رافتؔکہیں بنا نہ دے کافر یہ آرزو تیری
مرجع الہام بن سکتا ہے کوشش ہو اگراک مقام ایسا بھی پنہاں آدمی کے دل میں ہے
جو شکستہ دلوں کے مرجع ہیںہے سکون بخش حاضری جن کی
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books