aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "miinaa.ii"
امیر مینائی
1829 - 1900
شاعر
شمسی مینائی
1919 - 1988
مینا کماری ناز
1933 - 1972
انور مینائی
born.1984
علی مینائی
وسیم مینائی
مینا نقوی
1953 - 2020
عثمان مینائی
مینا خان
born.1975
رئیس مینائی
خالد مینائی
عثمان شمسی مینائی
ناشر
ذکیہ شیخ مینا
born.1956
ارشد مینا نگری
born.1942
مصنف
عابد مینائی
تم کو آتا ہے پیار پر غصہمجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے
کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیںناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہنکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔقدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
وصل کا دن اور اتنا مختصردن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں۔
مقبول ترین مابعد کلاسیکی شاعروں میں نمایاں۔ امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعراء
मिलाईمِلائی
ہندی
ملنے کی کیفیت، میل، وصل (خصوصاً) جفتی
मीनाईمِینائی
فارسی
مینا سے منسوب، شیشے کا بنا ہوا، سبز رنگ کا
मिनाمِنیٰ
عربی
اقصائے مکۂ معظمہ میں ایک مقام کا نام جہاں حجاج کرام زمانۂ حج میں قیام کرتے ہیں اور عبادت و قربانی کرتے ہیں
मिनाمِنا
شہکار عروض و بلاغت
علم عروض / عروض
امیراللغات
لغات و فرہنگ
دیوان امیر
دیوان
خیابان آفرینش
مجموعہ
صنم خانۂ عشق
کلام امیر مینائی
غزل
دبستان امیر مینائی
عرفان عباسی
کلیات
شاہ محمد ممتاز علی
سوانح حیات
شاعر خوشنوا حضرت شمسی مینائی
چودھری علی مبارک عثمانی
انتخاب
معیار اردو
محامد خاتم البیین
ابرکرم
مثنوی
محامد خاتم النبیین
امیر مینائی اور ان کے تلامذہ
کریم الدین احمد
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔسارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہوہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو
آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکنمرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے
تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کرسرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیںشوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر
ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میریکیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائےسو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوںڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں
اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہےہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books