aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nigraa.n"
زہرا نگاہ
born.1936
شاعر
نگہت صاحبہ
born.1983
نگار عظیم
مصنف
نگہت نسیم
سنبل نگار
ظہیر النساء نگار
نزہت نگار
نہاں رباب
born.1993
مدیر
بسنت لکھنوی
born.1932
حکیم سید محمد حسان نگرامی
ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر
سری نرائن نگم
عبداللہ فاروقی نگراں رسالہ خاتون مشرق، دہلی
ناشر
نگہت ریحانہ خان
طہور منصوری نگاہ
وہی افسانے مری سمت رواں ہیں اب تکوہی شعلے مرے سینے میں نہاں ہیں اب تک
کس مرتبہ تھی حسرت دیدار مرے ساتھجو پھول مری خاک سے نکلا نگراں تھا
اے جوانان وطن روح جواں ہے تو اٹھوآنکھ اس محشر نو کی نگراں ہے تو اٹھو
کوئی تیری طرف نہیں نگراںیہ گراں بار سرد زنجیریں
تیری آنکھوں کا عجب طرفہ سماں دیکھا ہےایک عالم تری جانب نگراں دیکھا ہے
سب سے پسندیدہ اور مقبول شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
معشوق کی ایک نگاہ کے لئے تڑپنا اور اگر نگاہ پڑ جائے تو اس سے زخمی ہوکر نڈھال ہوجانا عاشق کا مقدر ہوتا ہے ۔ ایک عاشق کو نظر انداز کرنے کے دکھ ، اور دیکھے جانے پر ملنے والے ایک گہرے ملال سے گزرنا ہوتا ہے ۔ یہاں ہم کچھ ایسے ہی منتخب اشعار پیش کر رہے ہیں جو عشق کے اس دلچسپ بیانیے کو بہت مزے دار انداز میں سمیٹے ہوئے ہیں ۔
गिराँ گِراں
وزنی، بھاری، ثقیل
فارسی
नज़राँ نَظراں
نظر (رک) کی جمع ، نظریں ، نگاہیں ۔
निशाँ نشاں
imprint, sign, mark
निहाँ نِہاں
چھپا ہوا، پوشیدہ، مخفی، پنہاں
چشم نگراں
خواجہ شوق
مجموعہ
محمود علی
دیدۂ نگراں
صالح اچھا
اردو شاعری کا تنقیدی مطالعہ
شاعری تنقید
ترقی پسند اردو افسانہ اور چند اہم افسانہ نگار
اسلم جمشید پوری
فکشن تنقید
اردو افسانہ اور افسانہ نگار
فرمان فتح پوری
اردو ادب کی اہم خواتین ناول نگار
نیلم فرزانہ
ناول تنقید
اردو مختصر افسانہ: فنی و تکنیکی مطالعہ
افسانہ تنقید
غالب : شاعر و مکتوب نگار
نور الحسن نقوی
تنقید
افسانہ نگار پریم چند
عظیم الشان صدیقی
تحقیق
اردو کی معروف خواتین افسانہ نگار اور ان کی خدمات
نعیم انیس
مقالات/مضامین
صاحب طرز ظرافت نگار: مشتاق احمد یوسفی ایک مطالعہ
مظہر احمد
تحقیق و تنقید
اردو کے نمائندہ افسانہ نگار
فرزانہ شاہین
اردو کی خواتین ناول نگار
ایس۔ کے۔ جبیں
اردو انشائیہ اور بیسویں صدی کے اہم انشائیہ نگار
ہاجرہ بانو
مضامین/ انشائیہ
دن کو کرنیں مرے افکار کا منہ دھوتی ہیںشب کو تارے مری جانب نگراں رہتے ہیں
کہیں تو ساحل نایافت کا نشاں ہوگاجلا کے خود کو تقاضائے آہ ہوں تو سہی
سخت حیراں ہوں کہ اس کفر کے جنگل میں بھی جوشؔچشم یزداں مری جانب نگراں ہے اب تک
ہم سے گمراہ زمانے نے کہاں دیکھے ہیںہم نے مٹتے ہوئے قدموں کے نشاں دیکھے ہیں
حکم رب کا جب تلک ہوتا نہیںزندگی کی موت خود نگران ہے
شفق صبح سے تابندہ سمن زار سے پوچھرات کاٹی سوئے گردوں نگراں بھی ہم نے
بزم یاراں نگراں غول حریفاں رقصاںاک تماشا بہ تماشائے دگر آیا ہے
مطمئن ہوں کہ کوئی تو مرا نگراں ہے ظفرؔمیرے پیچھے مرا سایہ ہی سہی یوں ہی سہی
مری پرواز کی حد جانتا تھا اس لیے بھیمرے اوپر یہ نیلا آسماں نگران رکھا
لام دہلی علم و ہائے کا شوشہ پرچماب تو باقی ہے فقط نام و نشان دہلی
جس نشیمن کی ہو تعمیر میں خون مظلوماس کی نگراں نظر برق تپاں ہوتی ہے
میں اپنے ہجر کو نگراں بنا کر لوٹ آیا تھابنا ہے مکڑیوں نے زرد جال آہستہ آہستہ
سنگ نگہ شوق ہے یکسانیٔ تغییرہر لحظہ نئی رت ہو بہار اور خزاں اور
نگار حسن کو حد سے فراواں کون دیکھے گانگاہ شوق کو اپنی پریشاں کون دیکھے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books