aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nishaan-e-lashkar-e-baatil"
مکتبہ نشان راہ، نئی دہلی
ناشر
ادارہ حق و باطل، ناگپور
انجمن نگار ادب، کانپور
مکتبہ نشأۃ ثانیہ، حیدرآباد
نگار ادب پبلیکیشنز، کراچی
مکتبہ نشاۃ ثانیہ، حیدرآباد
بنگاہ ترجمہ ونشر کتاب تہران
نظارت نشرواشاعت صدر انجمن احمدیہ قادیان، پنجاب
بزم نسواں، ممبئی
گوشۂ نشین، پنجاب
مطبع معلم نسواں، حیدرآباد
مکتبہ فکر و نشاط، لکھؤ
ظہیر ناشاد دربھنگوی
born.1923
مصنف
نشاط بسوانی
شاعر
ابو الحسن نعمتی فرد
یہی پرچم نشان لشکر باطل نہ بن جائےہم اک خنجر سہی لیکن کف سفاک سے نکلیں
لشکر وہم و گماں دل کے بدلتے ہی ملےبحر ظلمات حسیں پھول مسلتے ہی ملے
ملاذ کشور و لشکر پناہ شہر و سپاہجناب عالی ایلن بردن والا جاہ
خاکستر دل کو ہے پھر شعلہ بجاں ہوناحیرت کا جہاں ہونا حسرت کا نشاں ہونا
بہت نازک ہیں میرے سرو قامت تیغ زن لوگوہزیمت خوردگی میری صف لشکر پہ لکھ دینا
سب سے پسندیدہ اور مقبول شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
معشوق کی ایک نگاہ کے لئے تڑپنا اور اگر نگاہ پڑ جائے تو اس سے زخمی ہوکر نڈھال ہوجانا عاشق کا مقدر ہوتا ہے ۔ ایک عاشق کو نظر انداز کرنے کے دکھ ، اور دیکھے جانے پر ملنے والے ایک گہرے ملال سے گزرنا ہوتا ہے ۔ یہاں ہم کچھ ایسے ہی منتخب اشعار پیش کر رہے ہیں جو عشق کے اس دلچسپ بیانیے کو بہت مزے دار انداز میں سمیٹے ہوئے ہیں ۔
نشان راہ
ادارہ ادب اسلامی ہند، آندھراپردیش
انکشافات حق و باطل
معراج احمد اصلاحی
نظارہ حق و باطل
محمد نور بخش
رزم حق و باطل
شاہ بلیغ الدین
آئینۂ حق و باطل
محمد علی حسینی
اسلامیات
شکست باطل
کبیر کوثر
000
محمد غضنفر علی خاں
نشان منزل
حق و باطل
نعیم صدیقی
محشر امروہوی
فہیم الدین نوری
رئیس احمد جعفری
نشان حیدری تاریخ ٹیپو سلطان
تاریخ
نشان اجمل
حکیم محمد فضیل
احسن رضوی داناپوری
نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگیلہو میں ظلمت شب انگلیاں بھگونے لگی
گو ترا عہد عہد باطل ہےپھر بھی میں اعتبار کرتا ہوں
کتنا بڑا عذاب ہے باطن کی کشمکشآئینہ سب کا گرمیٔ جوہر سے کٹ گیا
شکست کھائے ہوئے حوصلوں کا لشکر ہوںاٹھا کے مجھ کو صف دشمناں میں رکھ دینا
نشان عظمت اسلاف ہیں جوبزرگوں کے وہ عمامے کہاں ہیں
جہاں کسی کو بھی اپنا پتا نہیں ملتاوجود نورؔ وہیں بے نشان چھوڑ آئے
سامنے لشکر باطل تھا ہزاروں کا مگرڈٹ گئے حق کے لئے بس تھے بہتر ہم لوگ
گم ہوئے جاتے ہیں دھڑکن کے نشاں ہم نفسوہے در دل پہ کوئی سنگ گراں ہم نفسو
ہم دل فگار چاک گریباں جہاں رہےپیہم نشانۂ ستم آسماں رہے
ہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہوکہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہے
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books