aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pand"
بھارت بھوشن پنت
1958 - 2019
شاعر
بال موہن پانڈے
born.1998
ابھنندن پانڈے
born.1988
چاندنی پانڈے
born.1974
چندراشیکھر پانڈے شمس
born.1984
پنا لعل نور
آدتیہ پنت ناقد
born.1971
ہمانشو پانڈے
اویناش پانڈے
born.1987
آنند پانڈے تنہا
born.1957
عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
مصنف
منیشا پانڈے
born.1983
آشوتوش پانڈے
سشرت پنت ذرہ
محمد اسماعیل پانی پتی
1893 - 1972
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
ہے آب نہر صورت آئینہ جلوہ گرتاباں ہے مثل چشمۂ خورشید ہر بھنورلہریں بسان برق چمکتی ہیں سر بہ سرپانی پہ مچھلیوں کی ٹھہرتی نہیں نظریہ آب و تاب ہے کہ گہر آب آب ہیںدریا تو آسماں ہیں ستارے حباب ہیں
شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والےناصحو پند گرو راہ گزر تو دیکھو
حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گلگوںمسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
غالب کی عظمت کا اعتراف کس نے نہیں کیا ۔ نہ صرف ہندوستانی ادبیات بلکہ عالمی ادب میں غالب کی عظمت اور اس کے شعری مرتبے کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ غالب کے ہم عصر اور ان کے بعد کے شاعروں نے بھی ان کو ان کی استادی کا خراج پیش کیا ہے ۔ ایسے بہت سے شعر ہیں جن میں غالب کے فنی و تخلیقی کمال کے تذکرے ملتے ہیں ۔ ہم ایک چھوٹا سا انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
احسان کرنا ،احسان کرکے اس کا بدلہ چاہنا ،احسان فراموش ہوجانا ، احسان کے پردے میں تکلیف پہنچانا یہ سارے تجربے روز مرہ کے انسانی تجربے ہیں ۔ ہم ان سے گزرتے بھی ہیں اور اپنی عام زندگی میں ان کا گہرا احساس بھی رکھتے ہیں ۔ لیکن شاعری ان تمام تجربوں کی جس گہری سطح سے ہمیں روشناس کراتی ہے اس سے زندگی کا ایک نیا شعور حاصل ہوتا ۔ عشق و عاشقی کے بیانیے میں احسان کی اور بھی کئی مزے دار صورتیں سامنے آئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
पाँپاں
پاؤں، پیر
पानाپانا
سنسکرت
موقع ملنا، میسر ہونا
पानीپانی
آب، جل، قدیم تصور کے مطابق اربعۂ عناصر میں سے ایک عنصر جو جدید سائنس کے مطابق آکسیجن ایک حصہ اور ہائیڈروجن دو حصہ کا مرکب سیال ہے
पानाپانَہ
فارسی
وہ لکڑی جس کو لکڑی چیرنے والا درز میں رکھ دیتا ہے، پچر
پند نامہ عطار مترجم
شیخ فرید الدین عطار
مثنوی
چند پند
ڈپٹی نذیر احمد
پرورش و پرداخت
نصیحت نامہ
پند نامہ عطار
شاعری
مجموعہ صد پند سود مند
خواجہ عبداللہ انصاری
ملفوظات
سجاد گان پنڈ شریف
سجاد احسن
تذکرہ
مجموعۂ صد پند سود مند
مطبوعات منشی نول کشور
پند نامۂ گیلانی
خواجہ محمد اشرف علی لکھنوی
پند غوثیہ تالیف احمدیہ
احمد شاہ
تصوف
پند نامۂ سعدی عرف کریما
احمد سعید
قرآنی پند نامہ
حفیظ الرحمن واصف
اسلامیات
پند بے سود
صفی اورنگ آبادی
نظم
پندنامہ کاشتکان
قطبؔ شہ نہ دے مج دوانے کو پنددوانے کوں کچ پند دیا جائے نا
پند نامہ جو کہا داغؔ نے بیکار نہیںکام کا قطعہ ہے یہ وقت پہ کام آئے گا
نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہےہماری بات میں برکت کا قحط پڑ گیا ہے
کیا پوچھتا ہے تلخی الفت میں پند کوایسی تو لذتیں ہیں کہ تو جان کھا گیا
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
جنون محبت میں پند عدو کیابھلا میں کسی کا برا چاہتا ہوں
اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحاپند کے لائق نہیں میں قابل زنجیر ہوں
غزل خوانی کو تو اس بزم میں آیا نہیں نادرؔتجھے یاں وعظ کہنا پند سود آمیز کرنا ہے
جناب شیخ بھی مخمورؔ شب کو رندوں میںعجیب حال سے مصروف وعظ و پند رہے
تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گزریپند گو یوں ہی نہ کر اب خلل اوقات کے بیچزندگی کس کے بھروسے پہ محبت میں کروںایک دل غم زدہ ہے سو بھی ہے آفات کے بیچ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books