aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "parda-e-e'tibaar-e-gair"
کارپردازان اخبار نجات، بجنور
مترجم
ایم اے اختیار
مصنف
کارخانہ اخبار وطن، لاہور
ناشر
اخبار اعظم، مراد آباد
مطبع اخبار خیرخواہ ہند
مطبع اخبار حق، لکھنؤ
مطبع اخبار آصفی، حیدرآباد
دفتر اخبار منادی، حیدرآباد
اخبار جہاں پبلکیشنز، کراچی
منیجر اخبار مسلمان، گجرانوالہ
اخبار اڑیسہ پبلیکیشنز، کٹک
مطبع اخبار طلسم، مدراس
اخبار مشرق پبلی کیشنز، کلکتہ
اخبار نو پبلیکیشنز، دہلی
او. پی. گھئی
پردۂ اعتبار غیر پیرہن خودی ہے چاکحسن ازل ہے جلوہ ریز صدمۂ دل گداز میں
اے انتظار صبح طرب تیری آبروغم کے طفیل نام خدا اور بڑھ گئی
اعتبار وعدۂ زحمت کی نادانی گئیآج تک جو دل میں تھی وہ کفر سامانی گئی
اعتبار نگہ یار نے دم توڑ دیاآج اک ہجر کے بیمار نے دم توڑ دیا
تو ہے معنی پردۂ الفاظ سے باہر تو آایسے پس منظر میں کیا رہنا سر منظر تو آ
انتظار کی کیفیت زندگی کی سب سے زیادہ تکلیف دہ کیفیتوں میں سے ایک ہوتی ہےاوریہ کیفیت شاعری کےعاشق کا مقدر ہے وہ ہمیشہ سے اپنے محبوب کے انتطار میں لگا بیٹھا ہے اور اس کا محبوب انتہائی درجے کا جفا پیشہ ،خود غرض ، بے وفا ، وعدہ خلاف اوردھوکے باز ہے ۔ عشق کے اس طے شدہ منظرنامے نے بہت پراثر شاعری پیدا کی ہے اور انتظار کے دکھ کو ایک لازوال دکھ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور انتظار کی ان کفیتوں کو محسوس کیجئے ۔
اخبار اس کھڑکی کا کام کرتے ہیں جن کے ذریعہ ہم دنیا بھرمیں ہونے والے واقعات پر نظر رکھتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے اخبار دنیا کا عکس اور عکاس، دونوں بن جاتا ہے۔ یہاں کچھ بہترین شعر پیش کئے جا رہے ہیں جن میں شاعر نے بڑی خوبی سے اخبار کو استعارہ بنا کر عالمی منظر نامہ،انسانوں اور اخباروں اور صحافت پر اپنی راۓ کا اظہار کرتے ہیں۔
ہار اور جیت زندگی میں کثرت سے پیش آنے والی دو صورتیں ہیں ۔ انسان کبھی ہارتا ہے تو کبھی اسے جیت ملتی ہے ۔ ہارنے اور جیتنے کی اس جنگ میں ضروری نہیں کوئ مقابل ہی ہو بلکہ یہ خود اپنے وجود اور داخل میں ہونے والی ایک پیکار بھی ہے ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب ہار اور جیت کے عمومی فلسفے کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے ۔
جاوید دانش اعتبار فکر و فن
شکست اعتبار
اختر سروش
اعتبار سخن
طالب محمود
غزل
حرف اعتبار
سید داؤد اشرف
تاریخ ہندو ممالک غیر
حبیب الرحمان چغتائی
ہندوستانی تاریخ
پردۂ مجاز
پریم چند
پردئہ مجاز
ناول
پردۂ ساز
شہاب اشرف
مجموعہ
پردۂ راز
علی بہادر خاں
اعتبار نظر
قاسم فریدی
تنقید
لے اعتبار وعدۂ فردا نہیں رہااب یہ بھی زندگی کا سہارا نہیں رہا
اگر کچھ اعتبار جسم و جاں ہوابھی کچھ اور میرا امتحاں ہو
اعتبار عمر فانی کچھ نہیںچار دن کی زندگانی کچھ نہیں
یقیں کا پردۂ مبہم پڑا ہی رہنے دوگمان و وہم کی یہ انجمن شکستہ ہے
مزاج یار تجھے کیوں وہ اعتبار تھا شاقیہ آئے دن کا تلون جسے مٹا کے رہا
حالت قلب سر بزم بتاؤں کیوں کرپردۂ دل میں ہے اک پردہ نشیں کا لالچ
تھا اک تلاطم مئے تخیل کے جام و خم میں تو جلترنگوں پہ چھڑ گئی دھنجو پردہ دار نشاط غم ہے جو زخمہ کار نواگری ہے وہ شاعری ہے
نہیں ترجمان بیاں کوئی جو ہے پردہ دار سکوت ہےہیں یہ داغ داغ عبارتیں بڑے احتمال کے درمیاں
مدت میں تم ملے ہو کیوں ذکر غیر آئےمیں اپنے سائے سے بھی خلوت میں بد گماں ہوں
رسم الفت کا پاس ہے ورنہغیر خود پہ حلال کر لیتا
یہ جو کہا کہ پاس عشق حسن کو کچھ تو چاہیئےدست کرم بدوش غیر یار نے رکھ دیا کہ یوں
ہم ایسے گم تھے مسائل میں دھیان ہی نہ رہاوہ آ گیا تو لگا اس کا انتظار بھی تھا
گو ترا عہد عہد باطل ہےپھر بھی میں اعتبار کرتا ہوں
برا ہو بد گمانی کا وہ نامہ غیر کا سمجھاہمارے ہاتھ میں تو پرچۂ اخبار تھا کیا تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books