aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pati.nge"
سوز دروں سے اپنے شرر بن گئے ہیں اشککیوں آہ سرد کو نہ پتنگے لگائیں ہم
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہیکیا پتنگے نے التماس کیا
اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہاروشنی کے ساتھ رہیے روشنی بن جائیے
کشش چراغ کی یہ بات کر گئی روشنپتنگے خود نہیں آتے بلائے جاتے ہیں
ایک پتنگاتنہا تنہا!
محبت پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
انسانی زندگی میں جو دور سب سے زیادہ امنگوں ، آرزؤں ، تمناؤں اور رنگینیوں سے بھرا ہوتا ہے وہ جوانی ہی ہے ۔ جوانی کو موضوع بنانے والی شاعری جوانی کی ان رنگینیوں کو بھی قید کرتی ہے اور جوانی کے گزرنے اور اس کی یاد سے چھا جانے والے گہرے ملال کو بھی ۔
पतिंगे پَتِن٘گے
पतंगे پَتَنگے
پتن٘گا نمبر ۱ (رک) کی جمع (اکثر تراکیب میں مستعمل).
पतंगे लगना پَتَنْگے لَگْنا
سخت ناگوار گزرنا، غصے یا حسد وغیرہ سے تن بدن میں آگ لگ جانا
पतंगे लगाना پَتَنْگے لَگانا
آگ لگانا، جلانا
کٹی پتنگ
گلشن نندہ
ناول
ہم وہاں بھی رہے
باصر سلطان کاظمی
پے انگ گیسٹ
بشری رحمن
اوٹ پٹانگ
مختار ٹونکی
نثر
پتنگ
فلمی نغمے
پتنگے
امین شرقپوری
افسانہ
اشوک کی پتنگ
مارگریٹ کڈ
پیئنگ گیسٹ
شرن
پتھر سے دل کی آگ سنبھالی نہیں گئیپہنچی ذرا سی چوٹ پتنگے گرا دیے
پتنگے شمع کے صدقے ہوں بلبلیں گل پرکوئی کسی کے فدا ہو میں ہوں فدائے حبیب
وقار عشق یوں بھی شمع کی نظروں میں کچھ کم ہےپتنگے خود چلے آتے ہیں بلوائے نہیں جاتے
اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہاروشنی کے ساتھ رہیئے روشنی بن جائیے
حسن کو غمگین دیکھے عشق یہ ممکن نہیںروک لے اے شمع آنسو اب پتنگے مر چلے
وہ پل میں جل بجھا اور یہ تمام رات جلاہزار بار پتنگے سے ہے چراغ بھلا
اب انجمن شوق میں شمعیں نہ پتنگےاب مرگ مسلسل کی سزا ہے نہ جزا ہے
میں وہ جاں باز و حوالہ ہوں پتنگے کی طرحشمع رو تیرے اپر جان سے جل جاؤں گا
ایک ادنیٰ سے پتنگے نے بنا دی جان پرشمع نے کوشش تو کی تھی دل جلانے کے لیے
یہ پتنگے سے پوچھ کیسا تھاروشنی سے وہ شعلگی کا سفر
پتنگے روز ہزاروں بنائے جاتے ہیںمرا تقدس خاک مزار کیا کہیے
یہ کس شمع کی چاہت میں پتنگےبرہنہ پاؤں سورج پر کھڑے ہیں
خصم جو مقراض گل چیں ہیں ترے اے شمع قدجوں پتنگے جل گئے ہم جو ترے یاروں میں تھے
پتنگے گھیر لاتا ہوں کہیں سےدیے کی لو سے جو ہے پیار اپنا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books