aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "piyuutaa"
پیوش اوستھی
born.1957
شاعر
پیوش شرما
born.1998
پیوش گجندرا آدتیہ
born.1985
پیوش دہیہ
عطیہ کار
پیوش دئیا
خدا کا شکر ہے تج سلطنت تھے کام پایا ہوںدندے دشمن کے مکھ پر پیوتا مئے ارغوانی کا
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچوتمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے
زندگی تو کب تلک در در پھرائے گی ہمیںٹوٹا پھوٹا ہی سہی گھر بار ہونا چاہئے
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہسکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
फूटा پُھوٹا
پھوٹنا سے، ٹوٹا ہوا، شکستہ، جھوجھرا
ہندی
पलूता پَلُوتا
بد دعا
पिलौता پِلَوتا
(کاشتکاری) پیلی مٹی کی زمین جو ریت اور چکنی مٹی کی ملواں اور قوت میں اول درجے کی ہوتی ہے۔
निपूता نِپُوتا
بے اولاد، لاولد، مجازاً: نگوڑا، کم بخت، موا، نالایق
سنسکرت
انڈا کیسے پھوٹا
محسن خاں
ڈراما
ملا دو پیازہ کی مکمل سوانح عمری
مولوی علی محمد
مطبوعات منشی نول کشور
پیا نام کا دیا
بانو قدسیہ
سوانح عمری بیربل و ملا دو پیازہ
مرزا حیرت دہلوی
سوانح حیات
پیاسا ساون
گلشن نندہ
ناول
پتا کا پتر پتری کے نام
جواہر لعل نہرو
خطوط
سوانح عمری بیربل و ملادوپیاجہ
منشی بلاقی داس
پیا ملن کی آس
فلمی نغمے
میں بوند بوند زہر پیتا ہوں
موہن لال
پیارا باپو
ہری چند اختر
ایک پیار ایک دھوکا
ڈاکٹر رام شرن شرما
رومانی
سمندر پیاسا ہے
شباب للت
مجموعہ
چٹھی پیر پیا کے نام
شبنم اعوان
محاربات پلیونا
مولوی محمد انشاء اللہ
بھارت پتا
مجھ سے کہتی تھیں وہ شراب آنکھیںآپ وہ زہر مت پیا کیجے
یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیںزندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے
کہانی کہنے والا اک کہانی کی کہانی ہےپیا پے یہ گدازش یہ گماں اور یہ گلے کیسے
مصلحت اس میں کیا ہے میریٹوٹا پھوٹا لگتا ہوں
چلو باد بہاری جا رہی ہےپیا جی کی سواری جا رہی ہے
ہائے جونؔ اس کا وہ پیالۂ نافجام ایسا کوئی ملا ہی نہیں
اس میں اس طرح اصول کیوں ہےپیادہ جو اپنے گھر سے نکلے
دل پیالہ نہیں گدائی کاعاشقی در بہ در نہیں ہوتی
کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دلانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
جان کیا اب ترا پیالۂ نافنشہ مجھ کو نہیں پلانے کا
ہم سے چھنا ہے ناف پیالہ ترا میاںگویا ازل سے ہم صف لب تشنگاں کے تھے
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھیپیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں
ساغر چشم سے ہم بادہ پرستمئے دیدار پیا کرتے ہیں
پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہےپیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہمہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books