aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rah-rav-e-raah"
دفتر چراغ راہ، کراچی
ناشر
مکتبہ چراغ راہ، لاہور
مکتبہ چراغ راہ، کراچی
مکتبہ نشان راہ، نئی دہلی
مشعل راہ پبلیکیشنز، بجنور یوپی
انتشارات در راہ حق قم
مدیر
مکتبہ راہ اسلام، دیوبند، یو۔ پی۔
سید فضل رب
مصنف
حضرت رعد جونپوری
قاضی فضل رب
born.1924
پنڈت جی جی رام بہادر رضا
شاعر
بزم راہی، بھونڈی
مجلس اہل راز، مدراس
فضل رب عرشی تاجپوری
انجمن روح ادب، الہ آباد
رہرو راہ محبت کون سی منزل میں ہےدل ہے بے زار محبت اور محبت دل میں ہے
ملے جو وقت تو اے رہرو رہ اکسیرحقیر خاک سے بھی ساز باز کرتا جا
ہم راہ رو منزل دشوار رہے ہیںہر طرح مصیبت میں گرفتار رہے ہیں
یہ بات راہرو نکتہ داں سے دور نہیںزمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے دور نہیں
رہرو راہ خوفناک عشقچاہیے پاؤں کو سنبھال رکھے
اس انتخاب میں مختلف شعرا کی تخلیق کردہ وہ نظمیں شامل کی گئی ہیں جن کا عنوان "رات" ہے۔ اس انتخاب کو پڑھنے سے ایک موضوع پر مختلف شعرا کے فکری کائنات کا پتا چلے گا۔
کئی ضرب المثل شعروں کے خالق، مرزا غالب کے ہم عصر
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور۔
राह-से راہ سے
قاعدے قرینے سے، رسم و رواج کے مُطابق
فارسی, ہندی
राज़-ए-दिल رازِ دِل
دل کا بھید
राह-ए-ख़ुदा راہِ خُدا
اللہ واسطے، خدا کی رضامندی کے لیے، فی سبیل اللہ
ख़ुदा-ए-राह خُدائے راہ
اللہ کے لیے ، اللہ کی راہ میں ، راہِ خدا.
چراغ راہ
نعیم صدیقی
خضر راہ
ایم۔ اسلم
نقوش راہ
محمد عنایت اللہ
شمع راہ
صفوۃ اللہ بیگ صوفی
نشان راہ
ادارہ ادب اسلامی ہند، آندھراپردیش
علامہ اقبال
نظم
سید قطب شہید
ترجمہ
نظم خضرراہ
مجموعہ
زاد راہ
پریم چند
افسانہ
زادراہ
جلیل احسن ندوی
زاد راه
شمارہ نمبر۔008
Sep 1950چراغ راہ
شمارہ نمبر۔002
حسین وارثی سہسرامی
مطمئن بیٹھ نہ اے راہرو راہ عروجترا رہبر ہے اگر خوف زوال اچھا ہے
رہرو راہ عشق تھے لاکھوںآگے میں کاروان سے نکلا
رہ رو راہ زندگی وقت سے تیز چال چلراہبروں کو راہ میں فرصت رہزنی نہ دے
میں راہ رو راہ تمنا ہوں ستمگرہر زخم پہ بڑھ جاتا ہے کچھ میرا نشاں اور
مبارک رہرو راہ تمناوطن غربت میں ہے غربت وطن ہے
گاؤں گاؤں خاموشی سرد سب الاؤ ہیںرہرو رہ ہستی کتنے اب پڑاؤ ہیں
یہ نقش پا ہے راہرو راہ عرش کااب راہرو نہیں ہے مگر کہکشاں تو ہے
دیکھ کر رہرو عشق کے بانکپنکھو گئے رہ نما لٹ گئے راہزن
دور کھنچتی ہی گئی منزل مقصود مگررہرو عشق کی ہمت کا وہی جوش رہا
رہرو عشق ہیں منزل کی ہمیں کیا امیدکیا چلے خاک اگر بیٹھ کے دو گام چلے
گھلتا ہے دل کہ رہرو الفت کے واسطےمیں خضر ہوں پہ چشمۂ حیواں سے دور ہوں
ہر قدم پر رہرو الفت کو منزل کے لئےشوق ہونا چاہئے امید ہونی چاہئے
کوچ کر گئے جانے کتنے قافلے جن کا کچھ نشاں نہیں ملتامیں بھی ہوں کمر بستہ یعنی رہرو راہ رفتگاں تو میں بھی ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books