aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "raqs-e-betaabaana-e-bismil"
نواب امراوبہادر دلیر
1873 - 1926
مصنف
فتح محمد رئیس اعظم
رسالہ رئیس ہند دہلی
ناشر
مدرسہ رئیس العلوم اہل سنت جماعت حنفی، لکھیم پور کھیری
کیا ہے قتل لیکن دیکھیے جاں کب نکلتی ہےکہ ان کو رقص بیتابانۂ بسمل پسند آیا
ہم بھی کچھ دیر کو چمکے تھے کہ بس راکھ ہوئےسچ تو یہ ہے کہ رم و رقص شرر ہی کتنا
آہ اس عمر محبت میں کبھی اے بسملؔایک دن آئے گا یہ دن مجھے معلوم نہ تھا
خدا لگتی کہو للہ صداقت کو نہ جھٹلاؤتمہیں افسانۂ بیتابیٔ بسملؔ پسند آیا
کسے مرگ بسملؔ کا احساس ہوگاوہ بیکس بھی تھا اور خوددار بھی تھا
امیدوں کی ایک دھند ہے اورکچھ ایسا ہے جوصاف دکھتا بھی نہیں اورچھپتا بھی نہیں ۔ اسے کے سہارے زندگی چل رہی ہے ۔ سب کچھ ہاتھ سے چلے جانے کے بعد اگرکچھ بچتا ہے تووہ امید ہی ہے ۔ شاعری کے عاشق کے پاس بھی بس یہی ایک اثاثہ ہے ، وہ اسی کے سہارے زندہ ہے ۔ جو طویل رات وہ ہجر کے دکھوں میں گزاررہا ہے اس کی بھی اسے سحرنظرآتی ہے ۔ ہم یہ انتخاب اس لئے بھی پیش کررہے ہیں کہ یہ زندگی کے مشکل ترین وقتوں میں حوصلہ مندی کا استعارہ ہے ۔
سردی کا موسم بہت رومان پرور ہوتا ہے ۔ اس میں سورج کی شدت اور آگ کی گرمی بھی مزا دینے لگتی ہے ۔ایک ایسا موسم جس میں یہ دونوں شدتیں اپنا اثر زائل کردیں اور لطف دینے لگیں عاشق کیلئے ایک اور طرح کی بے چینی پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے ہجر کی شدتیں کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتی ہیں ۔ سردی کے موسم کو اور بھی کئی زاویوں سے شاعری میں برتا گیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
سایہ شاعری ہی کیا عام زندگی میں بھی سکون اور راحت کی ایک علامت ہے ۔ جس میں جاکر آدمی دھوپ کی شدت سے بچتا ہے اور سکون کی سانسیں لیتا ہے ۔ البتہ شاعری میں سایہ اور دھوپ کی شدت زندگی کی کثیر صورتوں کیلئے ایک علامت کے طور پر برتی گئی ہے ۔ یہاں سایہ صرف دیوار یا کسی پیڑ کا ہی سایہ نہیں رہتا بلکہ اس کی صورتیں بہت متنوع ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح دھوپ صرف سورج ہی کی نہیں بلکہ زندگی کی تمام ترتکلیف دہ اور منفی صورتوں کا استعارہ بن جاتی ہے ۔
رقص بسمل
شین مظفرپوری
خود نوشت
بسمل اعظمی
مجموعہ
رقص بسمل ہے
زاہدہ حنا
کہانیاں/ افسانے
رقص اجل
رقص نوا
رقص گرداب
رقص بتان آذری
شکیل الرحمن
نوحۂ بسمل
رقص و سرود
تعلیم
رقص شرر
کلیم الدین احمد
انتخاب
رقص ابلیس
اقبال بیدار
رقص جنوں
ایس فضیلت
ظہیر کاشمیری
رقص خیال
ظفر حمیدی
رقص بہار
ایم۔ اسلم
کہاں تک شکوۂ بے مہریٔ احباب اے ہمدمزمانہ درپئے آزار بسملؔ ہوتا جاتا ہے
کہاں خود کو چھپائیں اے بسملؔوہ جو امید رو نمائی دے
ذکر بسملؔ پہ وہ فرمانے لگے جھنجھلا کرہوگا کوئی چلو جانے دو ہمیں یاد نہیں
تجھ پہ دونوں نثار ہیں قاتلجان مضطر ہو یا دل بسمل
ستاروں کی ضیا بن کر فرشتوں کا سلام آیازبان بسملؔ وارفتہ پر جب ان کا نام آیا
ہر گھڑی ہر سو حضرت بسملؔتیرے اور غم کے درمیاں ہوں گے
ہے تذبذب کہ لاش بسملؔ پرہنس رہی ہے کہ رو رہی ہے تو
ہے دعائے بسمل نیم جاں کہ مری خطاؤں کو بھول جاہے مجھے تو تیرا ہی آسرا تو حلیم ہے تو رحیم ہے
پوچھ مت مجھ سے مری حالت دل اے بسملؔدل کے زخموں پہ نیا تیر چلا ہو جیسے
نوازا ہے کچھ اس انداز سے تیری کریمی نےدل بسملؔ ازل سے مرکز اکرام ہے تیرا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books