aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rizq-e-KHaashaak"
نونہالان چمن بھی خس و خاشاک ہوئےخاک اڑاتی ہوئی یوں باد خزاں گزری ہے
خار و خس و خاشاک تو جانیں ایک تجھی کو خبر نہ ملےاے گل خوبی ہم تو عبث بدنام ہوئے گلزار کے بیچ
یہ جلا دے نہ کہیں میرے ہی گھر آنگن کومجھ کو اپنے خس و خاشاک سے ڈر لگتا ہے
خس و خاشاک سے نسبت تھی تو ہونا تھا یہیڈھونڈنے نکلے تھے شعلے کو شرر بھی نہ ملا
ستارے جتنے بھی آسماں پرمری تمنا کے ضوفشاں تھےزمیں کے اندر اتر گئے ہیںجو لوگ راتوں کو جاگتے تھے وہ مر گئے ہیںوہ پھول وہ تتلیاں کہ جن سےبہار کی دل کشی سوا تھیوہ رزق خاشاک بن چکے تھےتمام منظر تمام چہرے جو دھیرے دھیرے سلگ رہے تھےسو اب وہ سب راکھ بن چکے ہیںمیں رفتگاں کی اداس یادوں کے سائے میں دن گزارتا ہوںاگرچہ خوابوں کا پیرہن تار تار سا ہےپہ میں اسے کب اتارتا ہوںمری صدا کا جواب اب کوئی بھی نہ دے گایہ جانتا ہوں مگر مسلسل کسی کو اب تک پکارتا ہوںعجیب یہ کھیل ہے کہ جس کو نہ جیتتا ہوں نہ ہارتا ہوںمری کہانی میں کوئی شے بھی نئی نہیں ہےیہ ننھے منے حسین خوابوں سے ہے عبارتمری کہانی میں نرم دن خوش گوار شاموںاداس راتوں کی ایک رو ہےوجود میرا کسی دیئے کی حقیر لو ہےمیں یوں تو کہنے کو عقل و منطق کے دور کا آدمی ہوں لیکنمرا رویہ ہے زندگی کو گزارنے کا بہت پرانامیں سوچتا ہوں کہ اک صدی قبل پیدا ہوتا تو ٹھیک رہتاکہ مجھ سے کوئی بھی کچھ نہ کہتاجو خاک کا رزق ہو چکے ہیںمیں ان زمانوں کا نوحہ گر ہوںوصال و ہجراں کی داستانوں کا نوحہ گر ہوںجنہیں یہ دنیا ہزار ہا بار سن چکی ہے
گرد ہائے خس و خاشاک کہاں سے لائیںاس قدر گردش افلاک کہاں سے لائیں
کچھ عرض کریں گے تب و تاب خس و خاشاکآ جا کہ ذرا برق بتاں عیش کریں گے
صورت عشوۂ خاشاک ہے آوارہ وجودکیا سنبھل پائے گا دریائے ہوس سامنے ہے
فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کافروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلخن پر
دیکھا تو خلوت خس و خاشاک خواب میںروشن کوئی چراغ شرار انتظار تھا
ایک بوڑھا سا تھکا ماندہ سا رہوار ہوں میںبھوک کا شاہ سوارسخت گیر اور تنومند بھی ہےمیں بھی اس شہر کے لوگوں کی طرحہر شب عیش گزر جانے پربہر جمع خس و خاشاک نکل جاتا ہوںچرخ گرداں ہے جہاںشام کو پھر اسی کاشانے میں لوٹ آتا ہوںبے بسی میری ذرا دیکھ کہ میںمسجد شہر کے میناروں کواس دریچے میں سے پھر جھانکتا ہوںجب انہیں عالم رخصت میں شفق چومتی ہے
آنکھوں میں ہیں محفوظ ترے عشق کے لمحاتدریا کو خیال خس و خاشاک بہت ہے
آنسوؤں سے نہ بدل پایا رخ باد جمالؔپر مزاج خس و خاشاک بدل کر آیا
بدلی بدلی سی نظر آتی ہے دنیا عالمؔبس مزاج خس و خاشاک بدل جانے سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books