aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saar-baa.n"
سعد بن
مدیر
مدرسہ سعد بن ابی وقاص، مہاراج گنج
ناشر
محمود بن سعد ایرجی
مصنف
محمد بن سعد کاتب الواقدی
ابوعبداللہ محمد بن سعد البصری
السرالصالح بن غالب
سر رابرٹ بال
1840 - 1913
نگاہ یوں بھی نہ ٹھہرے کہ درد سر بن جائےیہ سنگ چشم کسی ڈھب سے اب گہر بن جائے
قلم ہونے کی خواہش کی بدولتترے نیزے پہ ہم سر بن گئے ہیں
دشت وفا میں یوں نہ بھٹک در بہ در نویدؔسر بن گیا ہے بوجھ تو پتھر تلاش کر
پڑا ہوں زیر قدم خاک رہ گزر بن کرجھکا ہوں میں ہمہ تن اس گلی میں سر بن کر
زلف کج رفتار کی کب چال چل سکتا ہے وہایسی ٹھوکر کھائے سر بن جائے روڑا سانپ کا
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
بیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ دنیا کے لئے اور بالخصوص بر صغیر کے لئے خاصہ ہنگامہ خیز تھا۔ نئی صدی کی دستک نے نئے افکار و خیالات کے لئے ایک زرخیز زمین تیّار کی اور مغرب کے توسیع پسندانہ عزائم پر قدغن لگانے کا کام کیا۔ اس پس منظر نے اردو شاعری کے موضوعات اور اظہار کےمحاورے یکسر بدل کر رکھ دئے اور اس تبدیلی کی بہترین مثال علامہ اقبالؔ کی شاعری ہے۔ اقبالؔ کی شاعری نے اس زمانے میں نئے افکار اور روشن خیالات کا ایک ایسا حسین مرقع تیار کیا جس میں شاعری کے جملہ لوازمات نے اسلامی کرداروں اور تلمیحات کے ساتھ مل کر ایک جادو کا سا اثر پیدا کیا۔ لوگوں کو بیدار کرنے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اقبالؔ کی شاعری نے عالمی ادب کے جیّدوں سے خراج حاصل کیا اور ساتھ ہی ساتھ تنازعات کا محور بھی بنی رہی۔ اقبال بلا شبہ اپنے عہد کے ایسے شاعر تھے جنہیں تکریم و تعظیم حاصل ہوئی اور ان کے بارے میں آج بھی مستقل لکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کے لئے جو شاعری کی ہے وہ بھی بے مثال ہے۔ان کی کئی نظموں کے مصرعے اپنی سادگی اور شکوہ کے سبب آج بھی زبان زد عام ہیں۔ مثلاً سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا یا لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کا آج بھی کوئی بدل نہیں۔ یہاں ہم اقبالؔ کے مقبول ترین اشعار میں سے صرف ۲۰ اشعار آپ کی نذر کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ترجیحات سے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ اس انتخاب کو مزید جامع شکل دی جا سکے۔ ہمیں آپ کے بیش قیمت تاثرات کا انتظار رہے گا۔
सैर-ए-जाँسَیْر جاں
فارسی
اپنے آپ میں گم رہنا، صرف اپنی ذات کا خیال رکھنا، اپنی دنیا میں مگن رہنا
जाँ-दारجاں دار
دولت مند، مال دار، صاحب حیثیت
बान-कारبان کار
سنسکرت, فارسی
تیر چلانے والا سپاہی
दार-उल-अमाँدارالاماں
house of refuge
خربوزہ شہزادے کا سر بن گیا
کوثر بانو
خواتین کی تحریریں
بیس سال بعد
فلمی نغمے
شمارہ نمبر- 018
نا معلوم ایڈیٹر
سیربین
معین الدین احمد
شمارہ نمبر-013
Jul 1957سیربین
بیس ہزار سال بعد
اظہار اثر
سو سال بعد
نسیم حجازی
کہانی
دو سال بعد
شرت چندر
داستان
چھبیس سال بعد اور دوسرے افسانے
امرتا پریتم
سیرۃ حضرت سعد بن معاذ انصاری
غلام محمد نظام الدین مغربی
تیس سال بعد
رضا علی عابدی
تبصرہ
باني ڀتڳتن ڪي
حکیم محمد سعید دہلوی
سدباب ذریعہ
دم باز دم ساز
انتصار حسین
سورج جو نیزوں کی نوکوں پر کھڑا ہوکر اعلان کرتا ہے کہ پوری کائنات کو جلا کر ہی دم لوں گا۔ ہوا بھی یوں ہی آسمان اور زمین بھی سرخ ہوکر جب کالی ہو گئی تو وہ خود بھی جل کر سیاہ مائل ہو گیا۔ آسمان میں ستارے خاک میں...
جبر اور صبر بار ہوتا ہےدل پہ کب اختیار ہوتا ہے
کچھ نہیں سے سب بنا کیسےاک خلا میں تھا خدا کیسے
ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہےدرد سر بن گیا بدن میرا
زندگی درد دل سے کترا کردرد سر بن گئی بشر کے لئے
یہ اونٹ اور کسی کے ہیں دشت میرا ہےسوار میرے نہیں سارباں نہیں میرا
کند ذہنوں کے لئے اک درد سربن گیا ہے نکتہ داں کا مسئلہ
کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میںکاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books